ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو پورے خطے میں پھیل جائے گی: خامنہ ای

تہران: (ویب ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر جنگ مسلط کی تو وہ ایک علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرلےگی۔

تہران میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکیوں کا کبھی کبھار جنگ کی بات کرنا اور طیاروں، جنگی بحری جہازوں وغیرہ کا ذکر کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی امریکا بارہا اپنے بیانات میں دھمکیاں دیتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ تمام آپشنز میز پر ہیں، جن میں جنگ کا آپشن بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہاکہ اب بھی یہ شخص کہہ رہا ہے کہ انہوں نے جنگی بحری جہاز اور دیگر ہتھیار تعینات کر دیے ہیں، لیکن ایرانی قوم کو ایسی باتوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، ایران کے عوام ان دھمکیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔

انہوں نے زور دیا کہ ہم جنگ کا آغاز کرنے والے نہیں ہیں اور کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، لیکن جو بھی حملہ کرے گا یا ہراساں کرے گا، اسے سخت جواب دیا جائے گا۔

خامنہ ای نے کہاکہ امریکا کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر اس بار انہوں نے جنگ شروع کی تو یہ جنگ علاقائی ہوگی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہاکہ ایران کے پاس تیل، گیس، قیمتی معدنی ذخائر اور ایک اہم اسٹریٹجک محلِ وقوع سمیت کئی قیمتی اثاثے موجود ہیں، اور یہی دولت اور اہمیت لالچی طاقتوں کی توجہ کا باعث بنتی ہے، جو طویل عرصے سے ملک پر غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

ان کے مطابق 30 سال سے زیادہ عرصے تک امریکا نے ایران کے وسائل، تیل، سیاست، سلامتی اور خارجہ تعلقات پر کنٹرول رکھا اور من مانی کرتا رہا، اور اب ان کا اثر ختم ہو چکا ہے، لیکن وہ پہلوی دور کی صورتحال واپس لانا چاہتے ہیں، تاہم ایرانی عوام ان کے راستے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہی اصل تنازع ہے۔ انسانی حقوق اور دیگر بہانے محض کھوکھلے دعوے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں