’ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے ‘استنبول میں 5لاکھ افراد کی ریلی

’ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے ‘استنبول میں 5لاکھ افراد کی ریلی

مظاہرین کے ہاتھوں میں ترکیہ ، فلسطین کے پرچم تھے ، غزہ کے حق میں نعرے غزہ جنگ نہتے عوام کے خلاف منظم و دانستہ نسل کشی ہے :مقررین کا خطاب

استنبول(اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ)نئے سال کی پہلی صبح استنبول میں شدید سرد موسم کے باوجود 5 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد غزہ میں اسرائیلی حملوں اور انسانی المیے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ۔یہ احتجاج ‘‘ہم دبنے والے نہیں، ہم خاموش نہیں، ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے ’’ کے عنوان سے منعقد کیا گیا، جس میں 400 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں، ٹریڈ یونینز، سماجی پلیٹ فارمز اور سپورٹس کلبز نے شرکت کی۔ مظاہرے کی قیادت ترکیہ گینچلیک وقف نے کی،مظاہرے کا آغاز استنبول کی تاریخی مساجد میں ادا کی گئی نماز فجر سے ہوا۔ آیاصوفیہ کبیر جامع مسجد، سلطان احمد، سلیمانیہ، فاتح، امین انونو، ینی جامع اور تقسیم سمیت شہر کے مختلف مقامات پر ہزاروں افراد نے نماز کے بعد فلسطین کے حق میں مارچ کا آغاز کیا۔آیا صوفیہ کے صحن سے نکلنے والے قافلے ، سلیمانیہ کی سیڑھیوں سے اترتے جلوس اور امین انونو سے اٹھنے والی انسانی قطاریں بالآخر گلاتا پل پر یکجا ہو گئیں، جہاں استنبول نے ایک انسانی سمندر کی صورت اختیار کر لی۔مظاہرین کے ہاتھوں میں ترکیہ اور فلسطین کے پرچم تھے اور عوام غزہ کے حق میں نعرے لگا رہے تھے جبکہ سمندر میں کشتیوں پر سوار مظاہرین نے مشعلیں روشن کر کے ترک و فلسطینی پرچم لہرا کر احتجاج کو علامتی وسعت دی۔آق پارٹی استنبول کے صدر عبداللہ اوزدمیر، علم یایما وقف کے چیئرمین اور ترک صدر کے صاحبزادے بلال اردوان، متعدد اراکینِ پارلیمنٹ، بلدیاتی سربراہان اور دیگر شخصیات نے قارا قوئے عرب مسجد میں فجر ادا کرنے کے بعد مظاہرین کے ہمراہ گلاتا پل تک مارچ کیا۔بلال اردوان نے کہا کہ غزہ میں جاری صورتحال صرف ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ عالمی نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ کسی صورت جنگ نہیں۔ یہ دو افواج کی لڑائی نہیں بلکہ ایک نہتے عوام کے خلاف منظم اور دانستہ نسل کشی ہے ، جس میں عورتیں، بچے اور بوڑھے نشانہ بن رہے ہیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں