گرفتار چینی جنرل پر امریکا کو جوہری معلومات فراہم کرنیکا الزام

 گرفتار چینی جنرل پر امریکا کو جوہری معلومات فراہم کرنیکا الزام

جنرل ژانگ صدر شی کے قابل اعتماد فوجی اتحادی سمجھے جاتے تھے :امریکی جریدہ چین میں بدعنوانی کیخلاف مہم کے تحت کئی فوجی افسر زیر تفتیش:برطانوی میڈیا

واشنگٹن(دنیا مانیٹرنگ)چین کے سینئر ترین جنرل ژانگ یوکسیا پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی حساس معلومات امریکا کو فراہمکیں اور سرکاری عہدوں کے تقرر کے بدلے بھاری رشوتیں وصول کیں۔امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق یہ الزمات چین کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی بریفنگ میں لگائے گئے ۔امریکی اخبار کے مطابق یہ بریفنگ ہفتے کی صبح ملک کی فوج کے اعلیٰ افسروں کی موجودگی میں ہوئی جب کہ اس سے کچھ دیر پہلے چین کے وزارت دفاع نے ژانگ یوکسیا کے خلاف ایک تحقیقات کا اعلان بھی کیا تھا۔جنرل ژانگ کبھی صدر شی جن پنگ کے سب سے قابل اعتماد عسکری اتحادی سمجھے جاتے تھے ۔ وزارت دفاع کی ابتدائی بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ پارٹی کی سخت ضابطہ بندی اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کے شبہات پر تحقیقات جاری ہیں، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ذرائع نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ تحقیقات میں ان کی زیر نگرانی ایک طاقتور ایجنسی بھی شامل ہے جو فوجی ساز و سامان کی تحقیق، ترقی اور خریداری کی ذمہ دار ہے ۔بریفنگ سے واقف افراد کے مطابق جنرل ژانگ پر الزام ہے کہ انہوں نے اس بڑے بجٹ والے خریداری نظام میں عہدوں کی فروخت کے بدلے بھاری رقم وصول کی۔تاہم بریفنگ میں سب سے حیران کن الزام یہ سامنے آیا کہ جنرل ژانگ نے چین کے جوہری ہتھیاروں کی بنیادی تکنیکی معلومات امریکا کے حوالے کیں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین میں بدعنوانی کے خلاف مہم کے تحت دیگر اعلیٰ فوجی افسر بھی زیر تفتیش ہیں۔سنگاپور کے سکیورٹی سکالر جیمز چار کا کہنا ہے کہ فوج کے روزمرہ آپریشن معمول کے مطابق جاری رہ سکتے ہیں، لیکن جنرل ژانگ کو نشانہ بنانے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شی جن پنگ اس تنقید کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ کارروائی کسی امتیاز کے بغیر کی جا رہی ہے ۔ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قدم نہ صرف کرپشن کے خلاف کارروائی ہے بلکہ صدر شی کی فوج میں مکمل سیاسی وفاداری اور کنٹرول یقینی بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں