ایران اور امریکا کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

ایران اور امریکا کا مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

امیدہے امریکامذاکرات جاری رکھنے کیلئے دھمکیوں سے باز رہے گا :عباس عراقچی نئی پابندیاں غیرقانونی تیل برآمدات روکنے کیلئے ہیں :ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

مسقط،واشنگٹن (اے ایف پی)عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ رو ز مذاکرات کا پہلا دور ہوا جس میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفا ق  کیاگیا،جبکہ امریکا نے ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنے کیلئے نئی پابندیوں کا اعلان کردیاہے ۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹی وی کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مذاکرات کے دوران بہت ہی مثبت ماحول میں دلائل کا تبادلہ ہوا اور فریقین نے اپنے اپنے خیالات شیئر کئے اور دونوں فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے لیکن ہم طریقہ کار اور وقت کا فیصلہ بعد میں کریں گے ۔عباس عراقچی کاکہناتھا آئندہ بات چیت کے حوالے سے اپنی حکومتوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا ،ہم امید کرتے ہیں کہ امریکا دھمکیوں اور دباؤ سے باز رہے گا تاکہ مذاکرات جاری رہیں۔ انہوں نے بتایاکہ بات چیت خصوصی طور پر ایرانی جوہری پروگرام پر مرکوز ہے جس کے بارے میں مغرب کا خیال ہے کہ اس کا مقصد بم بنانا ہے لیکن تہران کا اصرار ہے کہ وہ پرامن ہے ۔ مسقط میں مذاکرات کرنے والے امریکی وفد کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے کی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بااثر داماد جیرڈ کشنر ان کے ساتھ تھے ۔ امریکی اتحادی قطر کی وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات ایک جامع معاہدے کی طرف لے جائیں گے جو دونوں فریقوں کے مفادات کو پورا کرے اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو بڑھائے ۔دوسری طرف امریکا نے گزشتہ روزمذاکرات کے آخری لمحات کے دوران ایران کی تیل کی برآمدات کو روکنے کیلئے نئی پابندیوں کا اعلان کردیا، جس میں 14 جہازوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کے تحت ایرانی حکومت کی غیر قانونی تیل اور پیٹرو کیمیکل برآمدات کو روکنے کے لئے پرعزم ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں