ہتھیار نہیں چھوڑیں گے ،20ہزار جنگجو موجود:حماس

 ہتھیار نہیں چھوڑیں گے ،20ہزار جنگجو موجود:حماس

جب تک فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ، مزاحمت حق اور قوموں کا فخر :خالد مشعل یہودیوں پر مغربی کنارے میں زمین خریدنے پر عائد دہائیوں پرانی پابندیاں ختم

دوحہ،غزہ(اے ایف پی) حماس کے سینئر رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ حماس اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے گی اور غزہ میں غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گی۔ مشعل نے کہا کہ مقاومت اور اس کے ہتھیاروں کو جرم قرار دینا قابل قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہے ، مزاحمت حق ہے اور قوموں کا فخر ہے ۔ حماس کے پاس غزہ میں 20ہزار جنگجو اور 60ہزار کلاشنکوف موجود ہیں۔ مشعل نے امریکی \"بورڈ آف پیس\" سے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو اور امداد کی ترسیل میں توازن برقرار رکھیے لیکن فلسطینی علاقوں پر غیر ملکی حکمرانی یا مداخلت کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔رفح کراسنگ کے محدود طور پر دوبارہ کھلنے کے بعد تقریباً 180 فلسطینی غزہ پٹی سے مصر منتقل ہو چکے ۔ یہ واحد راستہ ہے جو اسرائیل کے ذریعے نہیں گزرتا۔ زیادہ تر مسافر مریض اور ان کے ہمراہ جانے والے افراد تھے ۔ رفح سے 2 تا 5 فروری کے درمیان 135 افراد گئے جبکہ اتوار کو مزید 44 افراد روانہ ہوئے ۔ دوسری جانب 88 افراد مصر سے غزہ واپس آئے ۔

رومانیہ کے صدر نیکوسور ڈان نے کہا ہے کہ انہیں امریکی صدر ٹرمپ کے \"بورڈ آف پیس\" کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی دعوت ملی ہے ، جو 19 فروری کو واشنگٹن میں متوقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رومانیہ نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ اجلاس میں شرکت کرے گا یا نہیں، شمولیت کا فیصلہ امریکی شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کے بعد طے ہوگا۔ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول مزید مضبوط بنانے کے فیصلوں کی منظوری دے دی۔ ان اقدامات کے تحت یہودی شہریوں پر مغربی کنارے میں زمین خریدنے پر عائد دہائیوں پرانی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ اسرائیلی وزرا کے مطابق فیصلے کا مقصد فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنا ہے ۔ فلسطینی قیادت نے ان اقدامات کو غیرقانونی آبادکاری کو قانونی شکل دینے کی کھلی کوشش قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے .

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں