امریکی فوجی اور اہلیہ کی افغان بچی گود لینے کی کارروائی برقرار
گود لینے کے حکم کے 6ماہ بعد قانونی حیثیت چیلنج نہیں کی جاسکتی:امریکی عدالت بچی کے والدین امریکی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے ،جوشوا،سٹیفنی نے گودلیا
واشنگٹن (اے ایف پی)امریکی عدالت نے ایک امریکی فوجی اور اس کی اہلیہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے افغانستان سے لائی گئی ایک بچی کو گود لینے کی کارروائی کو برقرار رکھا، حالانکہ بچی کے مبینہ رشتہ داروں نے اس کارروائی کو قانونی طورپر چیلنج کیا تھا۔2020 میں جوشوا ماسٹ اور سٹیفنی ماسٹ کو ایک شدید زخمی بچی کو گود لینے کی اجازت دی گئی تھی جو کہ افغانستان میں میدانِ جنگ سے امریکی فوج کو ملی تھی۔دو سال بعد ایک افغان جوڑے نے ، جو خود کو بچی کا رشتہ دار بتاتے ہیں، عدالت سے رجوع کیا اور مو قف اختیار کیا کہ افغان قانون کے تحت بچی کی کفالت کا حق انہیں حاصل ہے ، اس لیے گود لینے کا فیصلہ منسوخ کیا جائے ۔تاہم عدالت میں ججوں کی اکثریت نے ابتدائی فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورجینیا کے قانون کے مطابق گود لینے کے حکم کے چھ ماہ بعد اس کی قانونی حیثیت کو کسی بھی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔عدالتی فیصلے کے مطابق بچی کے والدین ایک امریکی سپیشل فورسز کے آپریشن میں مارے گئے تھے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گود لینے کا عمل امریکی محکمہ خارجہ کے اس مو قف کے بھی برعکس تھا جس کے تحت بین الاقوامی قانون کے مطابق واشنگٹن پر لازم تھا کہ وہ بچی کو اس کے اہل خانہ سے ملانے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔