پٹرولیم پر سبسڈی دیں نہ لیوی کم کریں:آئی ایم ایف

پٹرولیم پر سبسڈی دیں نہ لیوی کم کریں:آئی ایم ایف

ٹیکس ہدف میں کمی پر غور،شرح ترقی پر وزارت خزانہ،عالمی فنڈ میں اختلاف گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا بوجھ پٹرولیم مصنوعات کے صارفین پر پڑے گا

اسلام آباد (مدثرعلی رانا)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان نہ تو پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دے سکتا ہے اور نہ ہی پٹرولیم لیوی میں نمایاں کمی کر سکتا ہے اس لیے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں ہونے والا اضافہ براہ راست عوام تک منتقل کرنا پڑے گا ،ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی واضح ہدایت کے بعد ہی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار رد و بدل کا فیصلہ کیا ہے ، تاکہ عالمی منڈی میں اچانک اتار چڑھاؤ کے اثرات فوری طور پر صارفین تک منتقل کیے جا سکیں ۔ادھر آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف میں ممکنہ کمی پر بھی مشاورت جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 13979 ارب روپے سے کم کر کے تقریباً 13400 سے 13500 ارب روپے تک لانے کی تجویز زیر غور ہے ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران ایف بی آر کو تقریباً 428 ارب روپے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ حکومت نے جولائی سے دسمبر کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں 823 ارب روپے جمع کیے ہیں اور پورے سال کے لیے یہ ہدف 1468 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان معیشت کے مجموعی حجم یعنی جی ڈی پی کی شرح نمو پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے ، وزارت خزانہ رواں مالی سال میں تقریباً چار فیصد معاشی ترقی کا اندازہ لگا رہی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق شرح نمو تقریباً 3.2 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔

مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا جس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات بلوں کی عدم وصولی اور کیپسٹی پیمنٹس جیسے مسائل زیر بحث آئے آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ بلا امتیاز سبسڈی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ غریب ترین طبقے کو امداد صرف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے فراہم کی جائے ۔ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبوں نے بھی آئی ایم ایف کو اپنے مالیاتی فریم ورک اور رواں مالی سال کے دوران حاصل ہونے والے بجٹ سرپلس کے بارے میں بریفنگ دی جبکہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ سے متعلق پیش رفت بھی زیر بحث آئی، حکومت کا گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کو کم کرنے کا نیا منصوبہ بھی آئی ایم ایف کیساتھ ڈسکس کیا گیا گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ اور گیس ٹیرف پر وفد کو بریف کیا گیا ذرائع کے مطابق وفد کو ورچوئل میٹنگ میں بتایا گیا کہ گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا بوجھ پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والوں پر ہوگا، حکومت نے عزم ظاہر کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر مزید 4 روپے تک لیوی عائد کرنے اور گیس کے نرخوں میں اضافے کے بغیر گردشی قرضے کو کم کیا جائے گا، حکومت کی جانب سے پٹرولیم لیوی عائد کرنے کیلئے تجاویز کا جائزہ لیا جا چکا ہے آئندہ 6 برسوں میں گیس سیکٹر گردشی قرضے کو ختم کرنے کا یہ منصوبہ بنایا گیا، 1700 ارب روپے کے گردشی قرضے کی سیٹلمنٹ کی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں