امریکا، اسرائیل کے ایران میں شہری آبادیوں پر مزید حملے، شہدا کی تعداد 1332 ہوگئی
تہران: (دنیا نیوز) مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آٹھویں روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مزید حملے کر دیئے، تہران میں مہرآباد ایئرپورٹ پر دھماکے ہوئے، امریکا کا ایران کے 43 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ، اسرائیل کی لبنان میں بھی بمباری جاری ہے۔
خلیجی میڈیا کے مطابق تہران کے مغربی حصے میں دھماکے کی آواز سنی گئی، تہران کے آزادی ٹاور کے قریب بمباری سے کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں، دھوئیں کے بادل میلوں دور سے دکھائی دیئے۔
امریکی اور اسرائیلی فوج نے مہر آباد ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا، اسرائیل اور امریکی بمباری سے ایران میں شہید افراد کی تعداد تیرہ سو بتیس ہوگئی، شہدا میں ایک سو اٹھانوے خواتین، طبی عملے کے آٹھ ارکان بھی شامل ہیں، ایران نے اردون میں تھاڈ ڈیفنس سسٹم کا ریڈار تباہ کردیا۔
لبنانی شہرالقوزح میں اسرائیلی حملے میں اقوام متحدہ کی امن فورس کے3 اہلکار زخمی ہوگئے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے امن فورس کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک 43 ایرانی جنگی جہازوں کو نقصان یا تباہ کیا جا چکا ہے، ایران میں 3 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی ہفتہ وار رپورٹ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے جنگ کے پہلے ہفتے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن 28 فروری2026ء کو دوپہر ایک بج کر پندرہ منٹ پر شروع ہوا، آپریشن میں امریکی فضائی، بحری اور ڈرون صلاحیتیں استعمال کی گئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ بی ٹو سٹیلتھ اور بی ون بمبار طیارے آپریشن میں استعمال کئے گئے، ایف15، ایف 16، ایف 18 اور ایف 22 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا، ایران میں آپریشن کے دوران ایف 35 سٹیلتھ فائٹرز نے بھی حصہ لیا، اے10 حملہ آور طیارے اور الیکٹرانک وار فیئر طیارے استعمال کئے۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام کو استعمال کیا گیا ہے، یام کیو9 ریپر اور دیگر ڈرونز بھی کارروائی میں شامل تھے، پی 8 میری ٹائم پٹرول اور آر سی135 جاسوس طیارے استعمال بھی کئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ امریکی بحری بیڑے اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی آپریشن کا حصہ ہیں، جوہری توانائی سے چلنے والے ایئر کرافٹ کیریئرز بھی تعینات کئے، امریکی کارگو طیارے سی 17 اور سی 130 بھی آپریشن میں شامل ہیں، فضائی ری فیولنگ ٹینکرز کے ذریعے جنگی طیاروں کو مدد فراہم کی گئی۔
پاسداران انقلاب کا ٹرمپ کو آبنائے ہرمز میں جہاز بھیجنے کا چیلنج
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمت ہے کہ تو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی بحری جہاز تعینات کرکے دکھائیں۔
ایران کی فوج نے بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہے تاہم اگر کوئی امریکی یا اسرائیلی جہاز اس سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر کا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، قابل قبول رہنما کا انتخاب ہونے کے بعد امریکا اور اتحادی ایران کی ہر ممکن مدد کریں گے، خامنہ ای کا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای ناقابل قبول ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج اتارنے کا امکان بھی مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیت ختم کردیں گے، ایران نے ڈیل کیلئے کال کی، ہم نے کہا بہت دیر ہوگئی، ایران کے بعد اگلا ہدف کیوبا ہوگا۔