امریکا پابندیاں ختم کرے تو جوہری پروگرام پر لچک دکھانے کو تیار : ایران

 امریکا پابندیاں ختم کرے تو جوہری پروگرام پر لچک دکھانے کو تیار : ایران

ابتدائی سفارتی رابطے مثبت ،کسی بڑے نتیجے تک پہنچنے میں ابھی وقت درکار :ایرانی نائب وزیر خارجہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ بالکل واضح :امریکی وزیر خارجہ

تہران، میونخ (اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ ) ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں ختم کرے تو جوہری پروگرام پر لچک دکھانے کو تیار ہیں ۔دونوں ممالک میں ابتدائی سفارتی رابطے مثبت سمت جا رہے ہیں ،کسی بڑے نتیجے تک پہنچنے میں ابھی وقت درکار ہے ۔ ایرانی ڈپٹی وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے برطانوی میڈیا کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر حد بندیوں پر بات چیت کرنے کو تیار ہے ، لیکن امریکا کو پابندیوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کو کمزور کرنے جیسے اقدامات پر بھی بات چیت کر سکتا ہے۔

عوض میں اگر امریکا اقتصادی پابندیاں اٹھانے پر سنجیدہ مذاکرات کرے ۔ دونوں ممالک اگلے ہفتے جنیوا میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد طویل تنازع میں پیش رفت لانا ہے ۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بالکل واضح ہے ۔ کیونکہ یہ امریکا، یورپ، خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے ۔میونخ میں بلوم برگ کو دئیے گئے انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم خطے میں افواج رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران نے ماضی میں دکھایا ہے کہ وہ خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں اور اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ خطے میں ہمارے اتحادی ہیں اور یہاں امریکا کے فوجی اڈے بھی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکا اس لیے اپنی فوجی قوت رکھنا چاہتا ہے ، تاکہ ایران کی کسی غلطی کے نتیجے میں یہاں کوئی بڑا تصادم نہ ہو جائے ۔مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے واضح کر رکھا ہے کہ اُن کی ترجیح ایک معاہدے تک پہنچنا ہے ۔ اُن کے بقول یہ کافی مشکل ہے ، لیکن امریکا اس کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اتوار کو سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ۔ عراقچی جنیوا میں اپنے سوئس اور عمانی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کریں گے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی سے بھی ملاقات کریں گے ۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کیلئے ایران سے تمام افزودہ یورینیم کو برآمد کیا جائے ، تہران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کا خاتمہ بھی ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے مسئلے کو بھی حل کرنا ہوگا ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں