ایران امریکی فوجی طاقت سے گھبراکر جھکا کیوں نہیں؟:ٹرمپ کا سوال

ایران امریکی فوجی طاقت سے گھبراکر جھکا کیوں نہیں؟:ٹرمپ کا سوال

ٹرمپ نے پوچھافوجی دباؤ کے باوجودایران نے ہتھیارنہیں ڈالے ،معاہدہ پربھی تیارنہیں؟،صدرحیران:امریکی ایلچی امریکا ایران جوہری مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں شیڈول،ایران کا روس سے ا یئر ڈیفنس سسٹم کیلئے معاہدہ

واشنگٹن،تہران،مسقط(اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ)امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مجھ سے پوچھا کہ ایران امریکی فوجی طاقت سے گھبرا کر کیوں نہیں جھکا؟۔امریکی فوجی دباؤ کے باوجود ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر آمادگی نہ دکھانے پر صدر ٹرمپ حیران ہیں۔وٹکوف کے مطابق صدر سمجھتے ہیں کہ خطے میں بحری طاقت بڑھانے کے باوجود ایران نے لچک نہیں دکھائی۔ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ حیران ہیں کہ امریکا کے تمام تر دباؤ کے باوجود تہران نے ابھی تک واشنگٹن کے مطالبات کیوں نہیں مانے ۔وٹکوف نے کہا کہ میں مایوس کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا کیونکہ صدر کے پاس بہت سے آپشنز ہیں، لیکن وہ یہ جاننے کیلئے متجسس ہیں کہ ایران نے ابھی تک ہمارے مطالبات کیوں نہیں مانے ؟۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ حیران ہیں کہ تمام تر دباؤ اور خطے میں ہماری بحری قوت کے حجم کے باوجود تہران نے ہمت کیوں نہیں ہاری اور صاف صاف یہ کیوں نہیں کہہ دیا کہ بس ہم اب جوہری ہتھیار نہیں چاہتے ؟

انہوں نے کہا کہ ایران سویلین جوہری پروگرام رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس نے یورینیم کو شہری ضروریات سے کہیں زیادہ افزودہ کیا ہے ، اور بم بنانے کیلئے درکار صنعتی سطح تک پہنچنے میں شاید ایک ہفتہ باقی ہے ، یہ واقعی خطرناک ہے اور ہم اسے قبول نہیں کر سکتے ۔ ایلچی نے کہا کہ میں نے ٹرمپ کی درخواست پر رضا پہلوی سے ملاقات کی۔ یہ ایک عوامی اور کھلا معاملہ ہے ، یقین ہے کہ رضا پہلوی اپنے ملک کے لیے ایک مضبوط انتخاب ہوں گے ۔عمانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جمعرات کو جنیوا میں دوبارہ شروع ہوں گے ۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ بات چیت میں مثبت انداز میں پیشرفت کی کوشش کی جائے گی تاکہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا کسی حملے کی کوشش کرے گا تو ایران کے پاس حق ہے کہ اپنے دفاع میں علاقائی امریکی فوجی اڈے نشانہ بنائے ۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ امریکی حملہ جارحیت ہو گا اور اس کے جواب میں ایران کا اقدام دفاع کے زمرے میں آئے گا۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایرانی میزائل امریکا تک نہیں پہنچ سکتے ، اس لیے ردعمل میں علاقے میں امریکی دفاعی تنصیبات کو ہدف بنایا جائے گا۔عراقچی نے کہا کہ میرے خیال میں امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام پر تنازع کا حل اب بھی مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے ۔ ایران کے دارالحکومت تہران کی یونیورسٹیز میں طلبا نے حکومت کے حق اور مخالفت میں مظاہرے کیے ۔ شارِف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں طلبا نے شاہی پرچم لہراتے ہوئے حکومت مخالف نعرے لگائے ۔بعض طلبا نے "زندہ باد شاہ" کے نعرے بھی لگائے ۔ مظاہروں کے دوران کچھ یونیورسٹیز میں تصادم کی اطلاعات بھی ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہنے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کے ردِعمل میں جوابی اقدام کرتے ہوئے یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے ۔عراق میں مقیم کرد ایرانی گروپوں نے ایران کی حکومت کے خاتمے اور کردوں کی خودمختاری کے حصول کیلئے سیاسی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اتحاد میں کردستان فریڈم پارٹی ،ایرانی کردستان جمہوری پارٹی اور کردستان آزاد زندگی پارٹی شامل ہیں۔

ان گروپس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال میں اپنا اثر بڑھانے کیلئے متحد ہو رہے ہیں کیونکہ ایران نے اپنی سیاسی قانونی حیثیت کھو دی ہے ، مگر پھر بھی اقتدار پر قابض ہے ۔ دوسری جانب یران نے روس سے ’’وربا‘‘ ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری کا معاہدہ کرلیا۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران نے روس کے ساتھ خفیہ طور پر 60 کروڑ ڈالر کے اسلحے کی خرایدری کا معاہدہ کیا ہے ،رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ گزشتہ برس دسمبر میں ماسکو میں طے پایا جس کے تحت روس تین سال کے دوران ایران کو 500 ’’وربا‘‘ لانچ یونٹس اور 2500 ایم3369میزائل فراہم کرے گا۔ برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ وربا روس کے جدید ترین پورٹیبل فضائی دفاعی نظاموں میں شمار ہوتا ہے ، یہ کندھے پر رکھ کر فائر کیا جانے والا انفراریڈ گائیڈڈ میزائل ہے جو کروز میزائلوں، کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں