سنجیدہ مذاکرات ہوئے تو امریکا سے حساس مطالبات کیے جائینگے : ایرانی ذرائع
آئندہ فوجی کارروائی نہ کرنے کی ضمانتیں ، نقصانات کا معاوضہ اور ہرمز کے تنگ راستے پر باضابطہ کنٹرول مذاکرات میں باقر قالیباف اور عباس عراقچی کو بھیجا جائیگا ، حتمی فیصلوں کا اختیار پاسداران انقلاب کے پاس بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام ختم کرنے جیسے امریکی مطالبات پر ایران کا رضامند ہونا مشکل :اسرائیلی ذرائع
دبئی (رائٹرز )ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد مذاکرات کے حوالے سے موقف سخت کرلیا ، اب فیصلہ سازی میں پاسداران انقلاب کا اثر و نفوذ بڑھ رہا ہے ۔ تہران میں تین سینئر ذرائع نے بتایا کہ اگر ثالثی کے ذریعے سنجیدہ مذاکرات ہو ئے تو ایران امریکہ سے اہم اور حساس رعایتیں طلب کرے گا۔ذرائع کے مطابق ایران مذاکرات میں صرف جنگ کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ ایسے مطالبات بھی کرے گا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے انتہائی حساس ہیں یعنی مستقبل میں امریکہ کی طرف سے فوجی کارروائی نہ کرنے کی ضمانتیں ،جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ اور ہرمز کے تنگ راستے پر باضابطہ کنٹرول ، ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی پابندی پر مذاکرات کرنے سے انکار کرے گا، یہ وہ نکتہ ہے جو گزشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے دوران ہونے والے مذاکرات میں تہران کے لیے سرخ لکیر رہا۔تین سینئر ذرائع نے بتایا کہ ایران نے صرف ابتدائی سطح کی بات چیت پاکستان، ترکی اور مصر کے ساتھ کی ہے۔
تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر مذاکرات کے لیے کوئی بنیاد موجود ہے یا نہیں۔ ایک پاکستانی عہدیدار اور ایک ذریعے نے بھی کہا کہ اس ہفتے براہ راست مذاکرات کا امکان اسلام آباد میں موجود ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لئے بات چیت کی جا سکے ۔ تین ایرانی ذرائع نے بتایا کہ اگر امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات طے پاتے ہیں تو ایران پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھیجے گا، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ حتمی فیصلے سخت گیر پاسداران انقلاب کے اختیار میں ہوں گے ۔تین سینئر اسرائیلی حکام نے بھی بتایا کہ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے خیال میں تہران کا امریکی مطالبات پر رضامند ہونا مشکل ہے ۔ جن میں ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام کا خاتمہ شامل ہے ۔