پاکستان نے ایران، امریکا کو ایک دوسرے کے 6 پیغامات پہنچائے

پاکستان نے ایران، امریکا کو ایک دوسرے کے 6 پیغامات پہنچائے

شہباز شریف او راسحاق ڈار نے مشرق وسطٰی میں اپنے ہم منصبوں سے 30 سے زائد بار رابطے کئے پاکستان سعودی معاہدے کا پابند ،ایران کیساتھ پس پر دہ رابطے ، جنگ سے گریز کی کوشش:سکیورٹی ذرائع

اسلام آباد (رائٹرز ) ایران میں جاری جنگ کو ختم کرنے کیلئے ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کا کردار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلقات اور ایران کے ساتھ طویل المدتی دوستی پر مبنی ہے ، جس کی وجہ سے اسے ایک نسبتاً غیر جانبدار کھلاڑی کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات پاکستان میں منعقد ہوئے ، تو پاکستان کی عالمی اہمیت اس سطح تک پہنچ سکتی ہے جو 1972 میں پاکستان کے ذریعے امریکا اور چین کے خفیہ سفارتی رابطوں کے بعد امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دورے کے دوران دیکھی گئی تھی۔اگر پاکستان ایران جنگ ختم کرنے کے مذاکرات کی میزبانی کرے تو یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک سال سے زیادہ کے تعلقات اور محتاط سفارتکاری و کریپٹو ڈیلز کے نتیجے میں قائم کیے گئے اعتماد کا نتیجہ ہوگا۔

پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ براہِ راست رابطے رکھتا ہے ، جبکہ زیادہ تر ممالک کیلئے ایسے چینلز منجمد ہیں، اور جنگ کے خاتمے سے اسے براہِ راست فائدہ ہوگا۔تجزیہ کاروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق ایران میں طویل جنگ کے اثرات پاکستان تک پہنچنے کا خطرہ اسلام آباد کیلئے سب سے بڑی تشویش ہے ۔پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلق قائم کیا تاکہ برسوں کی بے اعتمادی کو دور کیا جا سکے ۔ فیلڈ مارشل کی جنوری میں ڈیووس میں ٹرمپ سے ملاقات کے بعد پاکستان ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا۔مزید برآں، پاکستان نے ٹرمپ کے خاندان سے منسلک ایک کرپٹو کاروبار کے ساتھ معاہدہ کیا ۔ اسی دوران وائٹ ہاؤس کے نمائندے سٹیو وٹکوف نے نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ ترقی کے معاہدے میں سہولت فراہم کی، جو پاکستان کی قومی ایئرلائن کی ملکیت ہے ۔

پانچ پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق ایران میں جاری تنازع کے آغاز سے ہی پاکستان سفارتی کوششوں میں شامل ہے اور اس نے امریکا اور ایران کے درمیان کم از کم 6 پیغامات کی ترسیل کی ہے ۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران شہباز شریف اور پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطٰی کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ 30 سے زائد بار گفتگو کی ، جن میں سے کم از کم 6 ایران کے حکام کے ساتھ ہوئی ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ ستمبر میں طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی، اور یہی معاہدہ پاکستان کے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہا ہے ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو اس معاہدے کی یاد دہانی کروائی اور ایران کے ساتھ ثالثی کیلئے کوششیں کیں۔پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد اس معاہدے کا پابند ہے ، لیکن وہ تہران کے ساتھ پس پر دہ رابطوں سے جنگ میں شامل ہونے سے گریز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں