مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کا ثالثی کردار قابل ستائش : چینی سفیر

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کا ثالثی کردار قابل ستائش : چینی سفیر

مشرقِ وسطیٰ میں بعض اقدامات اقوام متحدہ چارٹر کی خلاف وزری ہیں، چین طاقت کی سیاست کیخلاف ہے غیر فوجی اہداف پر حملے اور بحری راستوں کی سلامتی میں خلل نہیں ہوناچاہیے ، بیجنگ ثالثی کوششیں جاری رکھے گا پاکستان اور چین آل ویدر سٹریٹجک پارٹنرز ہیں ،رواں سال سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہو رہے سی پیک 2.0 کے تحت ترقی، روزگار، جدت اور کشادگی پر مبنی تعاون مزید بڑھائینگے :جیانگ زی ڈونگ ،پریس کانفرنس

اسلام آباد (عدیل وڑائچ )پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زی ڈونگ نے کہاہے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کا ثالثی کردار قابلِ ستائش ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے اس کی کوششیں اہمیت کی حامل ہیں۔ چین کی ثالثی کی کوششیں تنازع کے حل تک جاری رہیں گی ،پریس کانفرنس کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ چین تنازعات کے حل کیلئے طاقت کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں یک طرفہ اقدامات اور طاقت کی سیاست کے خلاف ہے ۔چینی سفیر نے کہا کہ چین بین الاقوامی قانون کو ملکی قانون کے تابع کرنے کی مخالفت کرتا ہے ، غیر فوجی اہداف پر حملے نہیں ہونے چاہئیں اور بحری راستوں کی سلامتی میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والے بعض اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ پاکستان اور چین آل ویدر سٹریٹجک پارٹنرز ہیں اور رواں سال دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت ترقی، روزگار، جدت، گرین اکنامی اور کشادگی پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ مشترکہ مستقبل کی تعمیر کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے ۔چین کے سفیر نے بیجنگ کی اقتصادی کارکردگی، ٹیکنالوجی میں پیش رفت، عالمی تعاون، گرین ڈویلپمنٹ اور پاک-چین تعلقات پر تفصیلی بریفنگ دی۔جیانگ زی ڈونگ نے کہا کہ چین کے دو اجلاس (Two Sessions) کی کامیاب تکمیل اور 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے اہداف عالمی برادری کے لیے ایک مثبت اور پُراعتماد پیغام ہیں۔

سفیر نے بتایا کہ چین عالمی اقتصادی ترقی میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈال رہا ہے جبکہ 2025 میں چین کی جی ڈی پی 20 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ انہوں نے رواں سال کے لیے 4.5 سے 5 فیصد معاشی ترقی کا ہدف بھی ظاہر کیا جو عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود استحکام کی علامت ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین تیزی سے مینوفیکچرنگ جوائنٹ سے سمارٹ مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ 2025 میں تحقیق و ترقی (R&D) پر اخراجات 522.8 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے جبکہ 2030 تک آر اینڈ ڈی کی شرح کو 3.2 فیصد جی ڈی پی تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں صنعت کا حجم 72.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ متعلقہ صنعتیں 290 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔

چینی سفیر نے خلائی اور صنعتی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین نے 2025 میں 60 سے زائد خلائی مشنز مکمل کیے اور 2026 میں ایک پاکستانی خلا باز کو اپنے خلائی سٹیشن بھیجنے کا منصوبہ ہے ۔ نئی توانائی گاڑیوں (NEVs) کی پیداوار اور فروخت 1 کروڑ 20 لاکھ یونٹس سے تجاوز کر گئی جبکہ عالمی مارکیٹ میں چین کا حصہ 40 فیصد سے زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین نے دنیا کا سب سے بڑا 5G نیٹ ورک قائم کیا ہے جس میں 3.5 ملین سے زائد بیس سٹیشنز شامل ہیں اور پاکستان میں بھی 5G انفراسٹرکچر کی تعمیر میں تعاون جاری رکھا جائے گا۔تجارت کے حوالے سے چینی سفیر نے بتایا کہ 2025 میں چین کی درآمدات و برآمدات کا حجم 6.24 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ عالمی برآمدی منڈی میں حصہ 14 فیصد سے زائد رہا۔

اسی طرح غیر ملکی سرمایہ کاری 174.3 ارب ڈالر تک رہی جس میں ہائی ٹیک سیکٹر کا حصہ بڑھ کر 35 فیصد ہو گیا۔ انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں 50 ہزار سے زائد کمپنیاں قائم ہو چکی ہیں، 3 ہزار سے زائد منصوبے مکمل ہوئے اور 4 لاکھ 20 ہزار نوکریاں پیدا ہوئیں جبکہ تقریباً 4 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا گیا۔ماحولیاتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ چین نے گزشتہ پانچ سال میں 3 کروڑ 30 لاکھ ہیکٹر پر جنگلات لگائے اور قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت 1.6 ارب کلوواٹ سے تجاوز کر گئی جو ملک کی کل بجلی پیداوار کا 55 فیصد ہے ۔ کاربن اخراج میں 20 فیصد کمی بھی حاصل کی گئی۔

سماجی شعبے میں چین نے 14.47 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا طبی اور تعلیمی نظام قائم کیا۔ انہوں نے بلوچستان میں 70 ہزار ہیلتھ کٹس کی تقسیم، 766 سکولوں کو فائدہ پہنچانے ، اور گوادر میں پاک-چین دوستی ہسپتال میں 48 ہزار سے زائد مریضوں کے علاج کا بھی ذکر کیا۔عالمی امن کے حوالے سے جیانگ زی ڈونگ نے کہا کہ چین یکطرفہ اقدامات، طاقت کی سیاست اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی مخالفت کرتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے پر زور دیتا ہے ۔انہوں نے چار عالمی اقدامات، گلوبل ڈویلپمنٹ، سکیورٹی، سولائزیشن اور گورننس انیشیٹوز، کو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک جامع فریم ورک قرار دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں