بھارت :سازش کا الزام ،کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید
فہمیدہ اور ناہیدہ کو 30، 30سال قید،حریت کانفرنس کی مذمت 2017سے جیل میں بند، یوم آزادی پر پاکستانی پرچم لہراتی تھیں
نئی دہلی(دنیا مانیٹرنگ)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی ایک عدالت نے کئی برس سے قید مقبوضہ کشمیر میں کالعدم تنظیم ’’دخترانِ ملت‘‘ کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی اور اُن کی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو انسدادِ دہشت گردی کے قانون یو اے پی اے کے تحت ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے اور سازش رچانے کے الزامات میں مجرم قرار دیا ہے ۔2017 سے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید آسیہ کو عمر قید جبکہ صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو30، 30 سال کی سزا سنائی گئی ہے ۔گزشتہ ہفتے ایک سماعت کے دوران دہلی کی خصوصی عدالت میں جج چندر جیت سنگھ کے سامنے انڈیا کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے 65 سالہ آسیہ اندرابی، 59 سالہ ناہیدہ نسرین اور 41 سالہ صوفی فہمیدہ کو عمر قید کی سزا دینے کی سفارش کی تھی، جس کے بعد عدالت نے 24 مارچ کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا۔
آسیہ اور ان کی ساتھیوں کے وکیل شارق اقبال نے ایجنسی کی طرف سے عائد الزامات کے حق میں پیش کیے گئے ثبوتوں کو ناکافی قرار دیا۔ این آئی اے کی چارج شیٹ میں آسیہ پر الزام ہے کہ اُن کے لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے ساتھ مراسم تھے اور وہ اپنی تقریروں میں تشدد کو فروغ دیتی تھیں۔اس سلسلے میں ایجنسی نے آسیہ کا ایک پرانا انٹرویو بھی پیش کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان عسکری گروپوں میں شامل ہوں گے اور ہماری عسکری جدوجہد مضبوط ہو جائے گی، بندوق ہمارے مقصد کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے لیکن ہمیں سیاسی جدوجہد کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ایجنسی کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران مختلف پولیس تھانوں میں آسیہ کے خلاف 33، صوفی فہمیدہ کے خلاف 9 اور ناہیدہ نسرین کے خلاف 5 مقدمے درج کیے گئے ۔
آسیہ اندرابی کشمیر میں نفاذِ شریعت اور خلافت کے قیام کی حامی تھیں، تاہم انہوں نے مقبوضہ کشمیرکو پاکستان کا فطری حصہ قرار دے کر کشمیری تحریکِ مزاحمت کے پاکستان نواز حلقے کی حمایت کی۔وہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی پرچم لہراتی تھیں اور پاکستانی حکومت پر زور دیتی تھیں کہ وہ کشمیریوں کی تحریک کو بھرپور تعاون فراہم کرے ۔ادھر آسیہ اندرابی کو سزا سنانے پر حریت رہنما عبدالحمید نے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی متعصب عدالت کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں،آسیہ اندرابی اور دیگر خواتین کشمیر کاز کیلئے سیاسی جدوجہد کر رہی ہیں ۔