امریکا،ایران میں بڑی پیش رفت کا کوئی ثبوت موجود نہیں

امریکا،ایران میں بڑی پیش رفت کا کوئی ثبوت موجود نہیں

دونوں ملک بالواسطہ پیغامات بھجوا رہے ، امریکی میڈیا پر ایران کیخلاف ممکنہ زمینی کارروائیوں کی خبریں پینٹاگون خاموش ،پہلے 15 دنوں میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ پریس بریفنگ دیتے تھے ،اب سب ختم

واشنگٹن ( مانیٹرنگ نیوز )جنگ میں کچھ بھی غیر متوقع ہو سکتا ہے مگر ابھی تک ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تائید کرے کہ امریکا اور تہران میں ‘بڑی پیش رفت ہوئی ہے ۔’دونوں ملک ابھی تک بالواسطہ طور پر ہی ایک دوسرے کو پیغامات بھجوا رہے  ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے جو 15 نکاتی منصوبہ پہنچایا تھا، ایران نے اب تک اس کا باضابطہ جواب بھی نہیں دیا ہے ۔ تاہم ان نکات کی جو معلومات لیک ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عملاً ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ہے ۔ایران واضح کر رہا ہے کہ وہ اب اس سابقہ چینل کے ذریعے کام نہیں کرنا چاہتا، وہ چینل جو ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کی سربراہی میں تھا اور جسے تہران اب چال بازی سمجھتا ہے ۔اسی وجہ سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس معاملے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک کسی قسم کے براہ راست مذاکرات پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا اور نہ ہی فاصلے کم کرنے پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے ۔ٹرمپ کا یہ کہنا بھی زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا کہ ایران میں ایک ‘نئی اور زیادہ معقول’ حکومت ہے ، کیونکہ وہاں کا نظام اس وقت عسکریت زدہ ہے اور مقتول ایرانی قیادت کی جگہ سخت گیر عناصر غالب آ گئے ہیں۔دوسری جانب گذشتہ 48 گھنٹوں سے امریکی میڈیا پر ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائیوں کی خبریں بھری پڑی ہیں، جو ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کی جانب سے گمنام بریفنگز پر مبنی ہیں تاہم سرکاری طور پر پینٹاگون کچھ بھی نہیں کہہ رہا۔جنگ کے پہلے 15 دنوں میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ہر چند دن بعد پریس بریفنگ دیتے تھے ۔ ان کے ساتھ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ڈین کین بھی ہوتے تھے ،اگرچہ ان بریفنگز تک رسائی سخت کنٹرول کے ساتھ ہوتی تھی لیکن پھر بھی امریکی فوج سے کچھ مشکل سوال آن ریکارڈ پوچھنے کا ایک موقع ضرور مل جاتا تھا۔اب 11 دن گزر چکے ہیں اور ایسی کوئی بریفنگ نہیں دی گئی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں