چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان و فود کی سطح پر مذاکرات:طالبات نے حقیقی اقدامات کیے تو پیش رفت ممکن ورنہ نہیں:ذرائع

چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان و فود کی سطح پر مذاکرات:طالبات نے حقیقی اقدامات کیے تو پیش رفت ممکن  ورنہ  نہیں:ذرائع

مطالبات بڑے و اضح ، ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا :دفتر خارجہ ،بات چیت چاہتے ہیں،افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینگے :طالبان وزارت خارجہ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ اسد گیلانی نے کی، طالبان وفد میں وزارت خارجہ کے نمائندے شامل ، ڈی جی لیول پر بات چیت ،بریک تھرو کا امکان نہیں:اعلیٰ عہدیدار

 اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)چین کے شہر اورمچی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان وفود کی سطح کے مذاکرات ہوئے ،اس حوالے سے پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار جو اس پراسس کو قریب سے دیکھ رہے ہیں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ دنیا کو بتایا کہ ڈی جی لیول کے مذاکرات یا بات چیت ہو رہی ہے لیکن اس میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان نہیں ،ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ اسد گیلانی نے کی، جبکہ افغان طالبان کے وفد میں افغان وزارت خارجہ کے نمائندے محب اللہ وثیق ،عبدالحی قانت، جبکہ طالبان وزارت داخلہ کے نمائندے عارف اللہ، وزارت دفاع کے نمائندے روح اللہ عمر اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے نمائندے یحییٰ تکل شامل تھے ، دفتر خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے جس کو بحال کرنا پڑے گا کیونکہ طالبان نے جب بھی پاکستان کے ساتھ کوئی وعدہ کیا اسے پورا نہیں کیا گیا ، پاکستان دیکھے گا اگر طالبان نے حقیقی اقدامات کئے تو پیش رفت ممکن ورنہ نہیں ۔

اگر افغان طالبان واقعی امن چاہتے ہیں اور مذاکرات کے خواہاں ہیں، تب ان کے ساتھ اعلانیہ بات چیت کی جائے گی ، عہدیدار نے بتایا ہے کہ پاکستان کے مطالبات بڑے واضح ہیں افغان طالبان ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکیں ،دوسرا ان کے خلاف قابلِ تصدیق اور ٹھوس کارروائی کریں۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ پاکستان نے قطر اور ترکیہ میں بھی طالبان کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی لیکن طالبان تحریری ضمانتیں دینے کو تیار نہیں تھے ، اس لئے اب کی بار پاکستان کو اعتماد کی بحالی میں مشکلات ہیں ، تاہم بات چیت اگر مثبت انداز میں بڑھتی ہے اور طالبان حقیقی طور پر اقدامات کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کی بات مانتے ہیں، تب کوئی پیش رفت متوقع ہے ، بات چیت اعلانیہ ہوگی جس میں تحریری ضمانتیں ہوں گی ، مذاکرات میں پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان صادق خان بھی شریک نہیں ہوئے ، پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان یہ پیش رفت تب دیکھنے کو ملی ہے جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورہ چین کے دوران ان کی چینی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی ۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات بھی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے ۔امارات کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے گزشتہ دنوں اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی پر بات کی۔ اس کے بعد امارتی وزیر خارجہ نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فونک گفتگو کی ، طالبان وزارت خارجہ سے جاری پریس ریلیز میں یہ کہا گیا تھا کہ طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور طالبان افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ، اس بابت انہوں نے کچھ اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان اور پاکستان کے معاملے پر چین بھی متحرک رہا ہے ۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان نچلی سطح پر بات چیت کا آغاز تو ہو چکا ہے لیکن حکام کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کر رہے ۔ اس تمام تر صورتحال پر پاکستان کے دفتر خارجہ سے کوئی تصدیق یا تردید جاری نہیں کی گئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں