بلاول فضل الرحمن ملاقات، سیاسی صورتحال پرگفتگو
آزادکشمیر، گلگت میں آنیوالے الیکشن پر غور،مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بلاول میڈیا سے گفتگو کئے بغیر ایوان صدر پہنچے ، صدر زرداری کواعتماد میں لیا
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے )چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی جمعیت علما اسلام کے سر براہ مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ڈیڑھ گھنٹہ سے زائد ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی صورتحال،علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیاگیا، ملاقات میں راجہ پرویز اشرف، نیئر بخاری اور چودھری یاسین جبکہ جے یو آئی کے مولانا اسعد محمود اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آنے والے الیکشن کا معاملہ زیر غور لایا گیااورطے پایا کہ اس حوالے سے فریقین مزید مشاورت جاری رکھیں گے ، کشمیر گلگت بلتستان کے علاوہ مستقبل میں قانون سازی پر بھی مشاورت کرنے پر اتفاق کیا گیا،ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو بھی حکومت کی اچانک قانون سازی پر تحفظات رہے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کی بعض باتوں سے اتفاق کرتی ہے ۔بعد ازاں بلاول بھٹو زرداری مولانا کی رہائش گاہ سے واپس روانہ ہوگئے ۔
دونوں رہنمائوں نے ملاقات کے بعد مشترکہ یا پھر الگ الگ میڈیا سے گفتگو نہیں کی تاہم جے یو آئی کے رہنما سینیٹرکامران مر تضیٰ سے جب صحافیوں نے پوچھا آخر کیا معاملات طے ہوئے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ صرف باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے ۔بعد ازاں بلاول بھٹو ایوانِ صدر پہنچے جہاں انہوں نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کو کو مولانا فضل الرحمن سے ہونے والی گفتگو اور سیاسی تعاون کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔ ملاقات میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔بلاول بھٹو زرداری نے صدر آصف علی زرداری کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پارٹی کی تیاریوں اور انتخابی حکمت عملی کے حوالے سے کی جانے والی حالیہ گفتگو سے آگاہ کیا۔پارلیمنٹ میں زیرِ غور اہم بلز اور نئی قانون سازی کے معاملے پر بھی مشاورت کی گئی اور ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری اور بلاول بھٹو نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام سیاسی قوتوں کو ملکی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں اہم قانونی اور سیاسی تبدیلیاں متوقع ہیں۔