جنگ میں حمایت نہ کرنیکی سزا:ٹرمپ کا یورپ سے امریکی فوجی واپس بلانے پر غور

جنگ میں حمایت نہ کرنیکی سزا:ٹرمپ کا یورپ سے امریکی فوجی واپس بلانے پر غور

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے 80ہزار امریکی فوجیوں کا یورپ کی سکیورٹی میں مرکزی کردار، 30ہزار جرمنی میں تعینات اٹلی، برطانیہ ، سپین میں بھی امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد، سیکرٹری جنرل نیٹو کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات تعلقات بہترنہ کرسکی

واشنگٹن (رائٹرز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ یورپ سے امریکی فوجی واپس لانے کے امکان پر بات کی ہے ۔ ایک سینئر وائٹ ہاؤس عہدیدار نے جمعرات کو رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ نیٹو کے اتحادیوں کی جانب سے آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد نہ کرنے پر ناراض اور اس بات پر غصے میں ہیں کہ گرین لینڈ کے حصول کے ان کے منصوبے آگے نہیں بڑھے ۔ عہدیدار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو براعظم سے فوجی کمی کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت نہیں دی ہے لیکن اس موضوع پر صر ف گفتگو ہی اس بات کو واضح کر تی ہے کہ حالیہ مہینوں میں واشنگٹن اور اس کے یورپی نیٹو اتحادیوں کے تعلقات کس حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کی ملاقات بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں کے تعلقات میں کوئی خاص بہتری نہیں لا سکی ، جو شاید نیٹو کی 1949 میں بنیاد کے بعد سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔امریکا اس وقت یورپ میں80ہزار سے زائد فوجی رکھتا ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یورپ کی سکیورٹی کا مرکزی کردار ادا کر رہا ہے ۔ ان میں سے 30ہزار سے زیادہ فوجی جرمنی میں تعینات ہیں، جبکہ اٹلی، برطانیہ اور سپین میں بھی بڑی تعداد میں فوجی موجود ہیں۔نیٹو نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے ممالک متاثر ہو سکتے ہیں یا اگر ٹرمپ اس خیال کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کریں تو آخرکار کتنے فوجی واپس بلائے جا سکتے ہیں۔اگرچہ ٹرمپ کا نیٹو کے ساتھ تعلق طویل عرصے سے کشیدہ رہا ہے ۔وہ برسوں سے یورپی دارالحکومتوں پر دفاعی اخراجات میں کمی کا الزام لگاتے رہے ہیں لیکن گزشتہ تین ماہ خاص طور پر تناؤ زدہ رہے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ سینئر انتظامی اہلکار اس بات پر غور کر رہے تھے کہ فوجیوں کو ایسے یورپی ممالک میں منتقل کیا جائے جہاں کے رہنما امریکا-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے زیادہ حامی ہوں، اور ان ممالک میں جہاں رہنماؤں نے تنقید کی، وہاں سے فوجی نکالے جائیں۔وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ خاص طور پر فوجیوں کو واپس امریکا بلانے پر غور کر رہے ہیں، نہ کہ انہیں دوسرے بیرونی ممالک میں منتقل کرنے پر۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں