بنگلہ دیش :طالبعلم پر فائرنگ ،2اہلکاروں کو سزائے موت
سینئر پولیس افسروں ،ڈاکٹر،یونیورسٹی وی سی ،عملے سمیت 28 افراد کو قید ابو سعید 2024 میں حسینہ کیخلاف تحریک میں مارا جانیوالا پہلا طالبعلم تھا
ڈھاکہ (اے ایف پی)بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے جمعرات کو دو سابق پولیس اہلکاروں کو طالبعلم مظاہرین کے رکن ابو سعید کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنا دی۔ ابو سعید کی ہلاکت نے 2024 کی عوامی تحریک کو مزید شدت دی تھی جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا ۔23 سالہ ابو سعید شمالی شہر رنگپور میں جاں بحق ہوئے اور وہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں مارے جانے والے پہلے طالب علم تھے ۔16 جولائی 2024 کو ان کے آخری لمحات کی ویڈیوجس میں وہ بازو پھیلائے کھڑے تھے انہیں قریب سے گولی مار دی گئی حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیشی ٹی وی چینلز پر بار بار نشر کی گئی۔عدالت نے دیگر 28 افراد کو قید کی سزائیں بھی سنائیں، جن میں کئی سینئر پولیس افسر، ایک ڈاکٹر، اور بیگم رقیہ یونیورسٹی (جہاں ابو سعید زیرِ تعلیم تھے ) کے سابق اہلکار، بشمول وائس چانسلر شامل ہیں۔شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کی طلبا تنظیم بنگلہ دیش چھاترا لیگ (جو اب کالعدم ہے ) کے ایک رہنما کو بھی سزا سنائی گئی۔بعض افراد کو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا دی گئی ۔