اسرائیلی وزیراعظم نے گھٹنے ٹیک دیئے، لبنان سے بات چیت شروع کرنیکا اعلان
بات چیت اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہوگی ، امریکی محکمہ خارجہ ،جنگ بندی نہیں ہوئی ،حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا مقصد:نیتن یاہو،اسرائیل کاردعمل مثبت :لبنانی صدرجوزف عون لبنان مذاکرات سے پہلے جنگ بندی چاہتاہے :سرکاری عہدیدار،اسرائیلی حملے غلط ،لبنان کو جنگ بندی میں شامل کیاجائے :کیئرسٹارمر،لبنان میں شہادتوں پر آج یوم سوگ کا اعلان
تل ابیب ،بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے گھٹنے ٹیک دئیے اور لبنا ن سے مذاکرات کرنے کا اعلان کردیا،لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا اورپاکستان، برطانیہ، فرانس، اقوامِ متحدہ، چین، ترکیہ، مصر، سپین اور آسٹریلیا نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے لبنان کو بھی جنگ بندی معاہدے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ لبنانی حکام کا کہناہے کہ لبنان مذاکرات شروع کرنے سے پہلے جنگ بندی چاہتاہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق اسرائیل اور لبنان اگلے ہفتے واشنگٹن میں بات چیت کریں گے کیونکہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی سے امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عہدیدار نے کہاہم تصدیق کر سکتے ہیں محکمہ خارجہ اگلے ہفتے اسرائیل اور لبنان کے ساتھ جاری جنگ بندی مذاکرات کے لیے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کابینہ کو لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ایکس پر اپنے بیان میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ لبنان کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کے بار بار مطالبات کے پیشِ نظر میں نے کابینہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ لبنان کے ساتھ جلد از جلد براہِ راست مذاکرات شروع کرے ، مذاکرات کا محور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیل کے ساتھ امن پر مبنی تعلقات کا قیام ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل لبنان کے وزیرِاعظم کی جانب سے بیروت کو غیر فوجی بنانے کی آج کی اپیل کو سراہتا ہے ۔
نیتن یاہو نے اپنے ملک کے شمالی علاقے کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوئی ،ہم حزب اللہ پر پوری طاقت کے ساتھ حملے کر رہے ہیں اور آپ کی سکیورٹی بحال ہونے تک رُکیں گے نہیں۔ہمارا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک تاریخی اور دیرپا امن معاہدے کا حصول ہے ۔اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ لبنان میں اسرائیل کی کارروائی نے حزب اللہ کو بہت نقصان پہنچایا ہے ، اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔لبنانی صدر جوزف عون نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز اور براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے ، جس پر اب تک مثبت ردعمل سامنے آیا ہے ۔صدر جوزف عون نے اپنے بیان میں زور دیا کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے جبکہ جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان مزید تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ، موجودہ صورتحال کا واحد حل اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہے ۔
مذاکرات سے آگاہ ایک لبنانی سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کوبتایاکہ لبنان کسی بھی مذاکرات کے آغاز سے قبل جنگ بندی چاہتا ہے ۔لبنان کی کابینہ نے گزشتہ روز سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ بیروت میں اسلحہ صرف ریاستی اداروں تک محدود رکھا جائے ۔ وزیراعظم نواف سلام نے کابینہ اجلاس کے اختتام پر کہا کہ فوج اور سکیورٹی فورسز کو فوری طور پر بیروت گورنری میں ریاستی اختیار کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے اور اسلحہ صرف قانونی و ریاستی اداروں کے پاس رکھنے کیلئے اقدامات شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔لبنانی حکومت نے مارچ کے آغاز میں اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم اس فیصلے کے باوجود گروپ نے اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کیئرسٹارمر کا کہناہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے غلط ہیں اور انہیں رُکنا چاہئے تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ حملے ایران اور امریکا کے درمیان عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں یا نہیں۔کیئر سٹارمر نے ایک پوسٹ کاڈ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں جنگ بندی کی تفصیلات تک رسائی حاصل نہیں لیکن لبنان پر حملے نہیں ہونے چاہئیں اور لبنان کو جنگ بندی میں شامل کیا جانا چاہئے ۔برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو مکمل طور پر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے باعث بڑے پیمانے پر انسانی نقصان اور نقل مکانی ہوئی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں لبنان کو بھی فوری شامل کیا جائے ۔فرانس کے وزیر خارجہ جان نوئیل بارو نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے لبنان بھر میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ فوجی سرگرمیاں جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر واکر ترک نے حملوں کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔چین نے لبنان کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لبنانی شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے ۔ ترکیہ، مصر اور سپین نے بھی اسرائیلی کارروائیوں کو کشیدگی میں اضافے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسرائیلی فورسز کے حالیہ حملوں میں لبنان کے 254 افراد شہید ہوگئے جس کے پیش نظر لبنان کے حکام نے آج ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کر دیا۔یوم سوگ کی مناسبت سے ملک کے تمام سرکاری ادارے بند رہیں گے جبکہ قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔