سول عدالت شہری کا شناختی کارڈ بلاک یا منسوخ نہیں کرسکتی : لاہور ہائیکورٹ
شناختی کارڈ وفاقی حکومت کی پراپرٹی ہے ،اسے آگے ٹرانسفر یا فروخت نہیں کیا جا سکتا :جسٹس تنویراحمد شیخ عدالت عالیہ نے شہری علی انصاری کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا فیصلہ غیر قانونی قراردیدیا، فیصلہ جاری
لاہور(کورٹ رپورٹر،اے پی پی)لاہور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق نیا قانونی نقطہ طے کرتے ہوئے سول کورٹ کی جانب سے نادرا کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فیصلے میں کہا ہے کہ سول عدالت سول کیسز میں شہری کا شناختی کارڈ بلاک یا منسوخ نہیں کرسکتی،شناختی کارڈ شہری کی شناخت ہوتا ہے جائیداد نہیں سمجھا جاسکتا،شناختی کارڈ وفاقی حکومت کی پراپرٹی ہے کارڈ کو آگے ٹرانسفر یا فروخت نہیں کیا جا سکتا ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے شہری علی انصاری کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے تحریری فیصلے میں مزید لکھا کہ شہری کی وفات کے بعد شناختی کارڈ آگے وراثت میں نہیں مل سکتا،ہر شہری اپنے طور پر خود کو نادرا میں رجسٹر کروائے ،نادرا شہری کو اس کی ذاتی پہچان کیلئے کارڈ جاری کرے ۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ نادر ا رولز کے مطابق 18سال کے شہری کا رجسٹر ہونا فرض ہے ،18سال سے کم عمر شہری کے والدین کی ذمہ داری ہے اسکی پیدائش کے فوری بعد اسے رجسٹر کرا یا جائے ،شہری نے سول کورٹ کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔عدالت نے شہری کی درخواست منظور کرتے ہوئے شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم غیر قانونی قرار دیا،عدالت نے قرار دیا کہ شہری کا 15 دنوں کے اندر اندر شناختی کارڈ بحال کیا جائے ۔