اسلام آباد : تاریخ ساز مذاکرات کی تیاریاں مکمل، عالمی رہنمائوں کے وزیر اعظم کو فون : شہباز شریف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات

اسلام آباد : تاریخ ساز مذاکرات کی تیاریاں مکمل، عالمی رہنمائوں کے وزیر اعظم کو فون : شہباز شریف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات

شہبازشریف ، عاصم منیر کا جنگ بندی برقرار رکھنے پرزور، لبنان کا اسرائیلی حملے ختم کروانے کیلئے پاکستان سے تعاون طلب،وزیراعظم سے اطالوی ہم منصب،امیر قطر، شاہ بحرین، فرانسیسی و ترک صدور ، جرمن و آسٹرین چانسلرز کابھی رابطہ ایرانی و امریکی وفود و سکیورٹی عملے کی آمدشروع، اسلام آباد میں سکیورٹی سخت ، ریڈ زون میں توسیع ، سکیورٹی کنٹرول فوج کے حوالے ، وزیراعظم کا مذاکرات کے مقام کا دورہ ،سکیورٹی انتظامات کا جائزہ ، بلاول کا رابطہ، موثر سفارتکاری کو سراہا

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نامہ نگار،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخ ساز مذاکرات کی تیاریاں مکمل ،عالمی رہنماؤں کے وزیراعظم کو فون، شہباز شریف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات میں خطے میں پائیدار امن کیلئے ثالثی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے مابین ثالثی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیااور اسلام آباد مذاکرات کی تیاریوں پر مشاورت کی گئی۔

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے کشیدگی میں کمی پراطمینان کا اظہار کیا اور تمام فریقوں کی طرف سے امن اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔قیادت نے تمام فریقین کی جانب سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تعریف کی اور پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل تک پہنچنے کیلئے دونوں فریقوں کو سہولت فراہم کرنے اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں امن کی کوششوں میں کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔

وزیراعظم کی جانب سے آنے والے وفود کو پاکستان کے دورے کی باضابطہ دعوت کا اعادہ کیا گیااور یقین دہانی کرائی گئی کہ پاکستان کی جانب سے انہیں بھرپور تعاون اور اعلیٰ ترین سطح کی میزبانی فراہم کی جائے گی۔لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے لبنان اور اس کے عوام کو نشانہ بنانے والے حملوں کو فوری طور پر ختم کرنے کیلئے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔ شہباز شریف نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی جاری جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کیلئے مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے اور اسی جذبے کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔لبنانی وزیراعظم نے کہا شہباز شریف کی امن کی کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغا م میں بتایا کہ انہیں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کی جانب سے ایک نہایت خوشگوار اور بامعنی ٹیلیفون کال موصول ہوئی، جنہوں نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کے کردار پر نہایت خلوص سے مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے شراکت داروں اور دوست ممالک بشمول فرانس کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ اس موقع کو ایک پائیدار اور دیرپا امن میں تبدیل کیا جا سکے ۔ فرانس کے صدر نے لبنان میں جاری جارحیت پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس امر پر زور دیا کہ تشدد اور بے گناہ جانوں کے ضیاع کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ پورے خطے میں دوبارہ امن قائم ہو سکے ۔بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے بھی ٹیلیفون پر وزیراعظم کو خراج تحسین پیش کیا ۔

وزیراعظم نے پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت پر شاہ بحرین کا شکریہ ادا کیا اور گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران حملوں کے تناظر میں بحرینی قیادت کی جانب سے دکھائے گئے مثالی تحمل کو سراہا۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران بحرین میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیر اعظم شہباز شریف اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں ایران میں جنگ بندی کے عمل اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترک صدر نے کہا دو ہفتے کے امن عمل کو موثر طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ پائیدار امن اور استحکام کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچن سٹوکر نے شہباز شریف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی ،دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین جنگ بندی کی مکمل پاسداری کریں تاکہ مذاکرات کامیاب ہوں اور خطے سمیت بین الاقوامی سطح پر پائیدار امن اور استحکام قائم ہو سکے ۔ شہباز شریف اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم نے قطری قیادت کی دانشمندی اور تدبر کی تعریف کی، جس کی بدولت گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران مسلسل حملوں کا سامنا کرنے کے باوجود مثالی تحمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا اور امیر قطر کو یقین دلایا کہ دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہیں گے ۔دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشترکہ کوششوں سے پورے خطے میں جلد امن واپس آئے گا۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرزنے بھی وزیراعظم کو فون کرکے پاکستانی سفارتی کوششوں کو سراہا، دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری مخاصمت پر شدید تشویش کا اظہار کیا ، شہباز شریف نے کہا جنگ بندی کو جاری رکھنے کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے تاکہ مذاکرات کے کامیاب نتائج برآمد ہوں۔اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پر شہباز شریف کو فون کر کے مبارکباد دی ، اس دوران لبنان میں جاری جنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کشیدگی کو روکنے کیلئے مربوط بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ شہباز شریف سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا،بلاول بھٹو نے مؤثر سفارت کاری کو سراہتے ہوئے اسے عالمی امن کیلئے تاریخی سنگ میل قرار دیا اور کہا پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ امن کا ضامن ہے ۔

خیال رہے امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی عمل آج سے اسلام آباد میں شروع ہو رہا ہے ،ان مذاکرات میں حصہ لینے کیلئے دونوں ملکوں کے وفود اور سکیورٹی عملہ پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ،ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکراتی وفد کی سربراہی ایران کی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کریں گے جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد ہفتے کے روز مذاکرات میں حصہ لے گا۔ ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون کی حدود پھیلا کر زیرو پوائنٹ سے لیکر فیصل مسجد تک کے علاقے کو اس میں شامل کر لیا ہے ۔

ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، پرائم منسٹر ہائوس کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیو بھی واقع ہے جہاں مختلف ملکوں کے سفارت خانے موجود ہیں۔وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ریڈ زون کا سکیورٹی کنٹرول فوج کے پاس ہوگا جبکہ رینجرز اور پولیس کے اہلکار بھی وہاں پر تعینات ہوں گے ۔سکیورٹی کے نقطہ نظر سے ریڈ زون میں صرف سرکاری گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہے جبکہ ریڈ زون میں واقع وفاقی وزارتوں میں کام کرنے والے افراد کو کہا گیا ہے کہ وہ اس عرصے کے دوران اپنے گھروں سے ہی ڈیوٹی کریں۔جڑواں شہروں میں تعطیل کی وجہ سے سکول اور کالجز بند ہیں جبکہ سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں مقدمات کی سماعت نہیں ہو گی۔اسلام آباد کے لیے خصوصی ٹریفک پلان بھی ترتیب دے دیا گیا ہے جس کے مطابق شہر میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے ۔

اسلام آباد ہائی وے اور سرینگر ہائی وے کو اس وقت کچھ دیر کے لیے بند کر دیا جائے گا جب غیر ملکی وفود ایئر پورٹ سے ہوٹل کی طرف جائیں گے ۔شہر میں بعض شاہراہوں کو کنٹینر لگا کر بند کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ مختلف مقامات پر تزئین و آرائش بھی جاری ہے ۔ شہر کے مختلف مقامات پر ناکے بھی لگائے گئے ہیں جبکہ پاکستانی فوج کے اہلکاروں کا گشت بھی جاری ہے ۔اس مذاکراتی عمل کی کوریج کیلئے انٹرنیشنل میڈیا نمائندے بھی پاکستان پہنچ رہے ہیں۔پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایکسٹرنل ونگ کے مطابق مختلف ممالک سے پچاس سے زیادہ صحافیوں نے ویزے کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ مذاکراتی عمل کی کوریج کے حوالے سے کنونشن سنٹر یا پاک چائنہ سنٹرمیں انتظامات کیے جانے کا امکان ہے ۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے مقام کا دورہ کیا ہے اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

وزارتِ داخلہ اور دیگر سکیورٹی حکام بھی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ تھے ۔حکومت نے مذاکرات کیلئے آنے والے مہمانوں کو وی وی آئی پی سکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جو ملک میں سکیورٹی کی اعلیٰ ترین کیٹیگری سمجھی جاتی ہے ۔ اس کے تحت کئی سطحوں پر مشتمل حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ وفود کی آمد، قیام اور نقل و حرکت مکمل طور پر محفوظ رہے ۔ وفود کی نقل و حرکت کی نگرانی زمینی اور فضائی ذرائع سے کی جائے گی۔ حساس راستوں، سرکاری عمارتوں اور ریڈ زون کے اطراف اضافی چیک پوسٹس، بیریکیڈز اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ نگرانی کے لیے خصوصی فضائی وسائل بھی استعمال ہوں گے ۔ سمندری حدود میں بھی ایک خصوصی حفاظتی لیئر قائم کی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا غیر معمولی نقل و حرکت پر فوری ردعمل دیا جا سکے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں