ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل موجو د :امریکی انٹیلی جنس

ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل موجو د :امریکی انٹیلی جنس

میزائل زیر زمین سٹوریج سے نکال کر دوبارہ فعال کیے جا سکتے ہیں:امریکی اخبار محدود صلاحیت کے باوجود خطے میں اثر انداز ہونے کی ایرانی صلاحیت برقرار:ماہرین

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جنہیں زیرِ زمین سٹوریج سے لانچرز نکال کر دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے  کہا ہے کہ اس جنگ بندی کا مقصد نہ صرف بحری راستوں کی بحالی ہے بلکہ ایران، امریکی افواج اور خطے کی ریاستوں کو مزید حملوں سے محفوظ رکھنا بھی ہے ۔ تاہم بعض امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ ایران اس وقفے کو اپنی میزائل صلاحیت دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے ،ماہرین کے مطابق محدود صلاحیت کے باوجود خطے میں اثر انداز ہونے کی ایرانی صلاحیت برقرار ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران کے نصف سے زائد میزائل لانچرز یا تو تباہ، نقصان زدہ یا زیر زمین پھنس چکے ہیں، لیکن ان میں سے متعدد کو مرمت کر کے یا زیر زمین کمپلیکس سے دوبارہ نکالا جا سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کا میزائل ذخیرہ مجموعی طور پر تقریبا آدھا رہ گیا ہے ، تاہم اس کے پاس اب بھی ہزاروں درمیانے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ میزائل زیر زمین چھپائے گئے مقامات یا خفیہ اسٹوریج سے دوبارہ استعمال میں لائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ایران کے پاس موجود ڈرونز کی تعداد بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں 50 فیصد سے کم رہ گئی ہے ، کیونکہ بڑی تعداد میں ڈرونز استعمال ہو چکے ہیں اور ایران کی پیداواری صلاحیت کو امریکی اور اسرائیلی حملوں نے متاثر کیا ہے ۔اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود2500 درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں میں سے اب بھی 1000 سے زائد باقی ہیں، جبکہ باقی استعمال یا تباہ ہو چکے ہیں۔امریکی سنٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں