مقبوضہ کشمیر:ہندو انتہا پسندوں کی بربریت ، مسلمان نوجوان قتل
گاؤ رکھشکوں نے تنویر کو تشدد کا نشانہ بنا کر نالے میں چھلانگ لگانے پر مجبورکیا ضلع رام بن میں بڑے پیمانے پر احتجاج، مکمل ہڑتال،انٹرنیٹ سروس معطل
سرینگر(اے پی پی)مقبوضہ کشمیر میں ہندو انتہا پسندوں نے ضلع رام بن میں ایک نوجوان مسلمان کو بے رحمی سے قتل کر دیا،جس کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور مکمل ہڑتال کی گئی۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 25سالہ تنویر احمد چوپان جموں سے اپنے آبائی گاں منڈکھل پوگل جا رہا تھا کہ کمرکوٹ کے علاقے میں بی جے پی، آر ایس ایس اور بجرنگ دل سے وابستہ ہندوتوا غنڈوں نے اسے روک کرتشدد کا نشانہ بنایا۔ نام نہاد گاؤ رکھشکوں نے نوجوان پر جان لیوا حملہ کیا اور اسے ایک نالے میں چھلانگ لگانے پر مجبورکیا۔ بعد ازاں اس کی لاش رامسو کے علاقے میں نالہ بشلری سے برآمد ہوئی۔ واقعے پرعلاقے کے لوگوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ۔ انتظامیہ نے صورتحال پر قابو پانے کیلئے علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔