جنگ کے باعث ایران میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا خاتمہ
تہران(دنیا مانیٹرنگ )جرمن نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ تقریباچھ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ کے باعث ایران میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا خاتمہ ہوا۔
صنعتی تنصیبات کی تباہی کے باعث کئی شعبوں میں پیداوار رک گئی ، جس کا سب سے زیادہ اثر ایرانی کارکنوں پر پڑ رہا ہے ،ایران کے 93 ملین سے زائد باشندے ایسی جنگ کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں جو کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتی ہے ، بہت سے ایرانی اب آنے والے مشکل دنوں سے خوفزدہ ہیں۔ٹریڈ یونین رہنما اسماعیل عابدی نے جرمن میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ جنگ کا سب سے زیادہ اثرعام لوگوں خاص طور پر مزدوروں، اساتذہ اور تنخواہ دار طبقے پرپڑ رہا ہے ۔
مارچ 2025 سے جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے اسماعیل عابدی نے کہا ہے کہ جب فیکٹریاں، کارخانے یا سروس پروجیکٹس بند ہو جاتے ہیں تو سب سے پہلے مزدور، یومیہ مزدور اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ کارکن متاثر ہوتے ہیں ،یہ جنگ ایران کی معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق تہران نے جنگ سے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ تقریباً 229 بلین یورو (تقریباً 270 بلین ڈالر)لگایا تاہم بڑی صنعتی تنصیبات کو حقیقی نقصانات کا مکمل مجموعہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔اصفہان میں واقع مبارکہ سٹیل کمپنی کو امریکا اور اسرائیل کے دوسرے حملے کے بعد مکمل طور پر اپنی پیداوار روکنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ورلڈ سٹیل ایسوسی ایشن کے مطابق 2025 میں ایران دنیا کے 10 بڑے سٹیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل تھا اور وہ سالانہ تقریباً 31اعشاریہ8 ملین ٹن سٹیل برآمد کرتا تھا ،پیداوار معطل ہونے پر ہزاروں مزدوروں کو گھر بھیج دیا گیا۔ماہر توانائی اور جارج میسن یونیورسٹی کے سینئر وزیٹنگ فیلو عمود شکری کے مطابق عسلوئیہ (ساؤتھ پارس)، ماہشہر اور شیراز میں بڑے پیٹروکیمیکل مراکز پر حملوں سے شدید نقصان ہوا اور متعدد صنعتی تنصیبات مکمل طور پر بند ہو گئیں،بحالی میں تقریباً دو سال لگ سکتے ہیں ، 14 اپریل کو ایرانی لیبر نیوز ایجنسی (النا)نے اپنے تمام صحافیوں کو برطرف کر دیا اور ان کی ملازمت کو فری لانس معاہدوں میں تبدیل کر دیا۔اطلاعات کے مطابق بہت سی دیگر کمپنیوں نے بھی بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرنا شروع کر دیا ہے۔