301 بینکوں کی ایٹمی ہتھیار بنانے والی کمپنیز میں سرمایہ کاری
امریکی ادارے وین گارڈ، بلیک راک اور کیپیٹل نے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی سرمایہ کاروں نے 25 کمپنیز میں 709 ارب ڈالر سے زائد کے حصص اور بانڈز رکھے دنیا کے 9 ایٹمی ممالک اپنے ہتھیاروں کو جدید بنانے ، بڑھانے میں مصروف :رپورٹ
واشنگٹن(دنیا مانیٹرنگ)ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی مہم چلانے والے کارکنوں نے بتایا کہ مالیاتی ادارے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔ان کارکنوں نے خبردار کیا کہ یہ رجحان ایسے وقت میں فوجی اخراجات کو مزید بڑھا سکتا ہے جب دنیا بھر میں تنازعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ماہرین پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں ایٹمی ممالک تنازعات میں ملوث ہیں اور اسلحے میں کمی اور عدم پھیلاؤ کی دیرینہ کوششیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ نئی رپورٹ میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ کے لیے کوشاں نوبیل امن انعام یافتہ تنظیم انٹرنیشنل کیمپین ٹو ایبولش نیوکلیئر ویپنز اور اینٹی نیوکلیئر گروپ پیکس نے کہا کہ مالیاتی اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے جو دنیا کے نو ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے ہتھیاروں کے ذخائر کو بڑھانے اور جدید بنانے میں مدد دے رہی ہیں۔
سالانہ رپورٹ ‘ڈونٹ بینک آن دا بم’ کے مطابق ستمبر 2025 تک 301 بینکوں، پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں نے ایٹمی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری یا فنانسنگ فراہم کی۔یہ ایک سال قبل کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے اور اس نے کئی برسوں سے جاری کمی کے رجحان کو بدل دیا ہے ۔رپورٹ میں شریک مصنف اور آئی سی اے این کی پروگرام ڈائریکٹر سوزی سنائیڈر نے کہا کئی برسوں بعد پہلی بار اسلحے کی دوڑ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والے سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔یہ ایک قلیل مدتی اور خطرناک حکمت عملی ہے جو کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے اور اسلحے کی دوڑ سے فائدہ اٹھانا اس کو مزید ہوا دینے کے بغیر ممکن نہیں۔رپورٹ کے مطابق دنیا کے نو ایٹمی ممالک روس، امریکا، چین، برطانیہ، پاکستان، انڈیا، شمالی کوریا، فرانس اور اسرائیل اپنے ہتھیاروں کو جدید بنانے اور اکثر صورتوں میں بڑھانے میں مصروف ہیں، جس سے ان ہتھیاروں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بڑے دفاعی ٹھیکے داروں کی سٹاک مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔رپورٹ کے مطابق روس سے لاحق خطرات اور اس بڑھتے خدشے کے پیش نظر کہ یورپ اب واشنگٹن کے تحفظ پر مکمل انحصار نہیں کر سکتا، کئی حکومتوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یورپ کی دوبارہ عسکری تیاری میں سرمایہ کاری کو اخلاقی پابندیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے ۔رپورٹ میں 25 کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں شامل ہیں، جن میں جنرل ڈائنیمکس، ہنی وال انٹرنیشنل اور نورتھروپ گرمن سرفہرست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں میں سب سے بڑی سرمایہ کاری امریکی اداروں وین گارڈ، بلیک راک اور کیپیٹل گروپ نے کی۔رپورٹ کے مطابق جنوری 2023 سے ستمبر 2025 کے دوران سرمایہ کاروں نے ایٹمی ہتھیار بنانے والی 25 کمپنیوں میں 709 ارب ڈالر سے زائد کے حصص اور بانڈز رکھے جو گزشتہ جائزہ مدت کے مقابلے میں 195 ارب ڈالر سے زیادہ اضافہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسی عرصے میں تقریباً 300 ارب ڈالر قرضوں اور انڈر رائٹنگ کی صورت میں بھی فراہم کیے گئے ، جو پچھلی رپورٹ کے مقابلے میں تقریباً 30 ارب ڈالر زیادہ ہیں۔ بڑے قرض دہندگان میں بینک آف امریکا، جے پی مورگن چیس اور سٹی گروپ شامل ہیں۔اسی دوران رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کئی مالیاتی اداروں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے منسلک سرمایہ کاری چھوڑ کر بھی خاطر خواہ منافع کمایا جا سکتا ہے ۔مہم چلانے والوں کے مطابق 2025 کے اختتام تک ایسے اداروں کے زیر انتظام اثاثوں کی مجموعی مالیت 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی جو واضح طور پر ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔