زخمی ایرانی سپریم لیڈر اب بھی جنگی حکمتِ عملی تشکیل دینے میں سرگرم:امریکی انٹیلی جنس

زخمی ایرانی سپریم لیڈر اب بھی  جنگی حکمتِ عملی تشکیل دینے  میں سرگرم:امریکی انٹیلی جنس

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران کے نئے زخمی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمتِ عملی مرتب کرنے میں اعلیٰ ایرانی حکام کے ساتھ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

 امریکی ٹی وی سی این این کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے واقف متعدد ذرائع کے حوالے سے انٹیلی جنس رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ داخلی طور پر تقسیم شدہ ایرانی نظام میں اصل اختیار کس کے پاس ہے ، یہ اب بھی پوری طرح واضح نہیں، تاہم امکان ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی سمت متعین کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے کے چند روز بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کی جگہ ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اب تک امریکی انٹیلی جنس ادارے ان کے مقام یا موجودگی کی بصری طور پر تصدیق نہیں کر سکے ۔ذرائع میں سے ایک کے مطابق اس غیر یقینی صورتحال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای رابطے کے لیے کسی قسم کے الیکٹرانک آلات استعمال نہیں کر رہے ۔ وہ صرف ان افراد سے بالمشافہ ملاقات کرتے ہیں جو ان تک پہنچ سکتے ہیں، یا پھر پیغام رساں افراد کے ذریعے پیغامات بھجواتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں