ٹرمپ چین پہنچ گئے ،آج شی جن پنگ سے ملاقات
چینی نائب صدر ہان ژنگ نے بیجنگ ایئرپورٹ پرامریکی صدرکا استقبال کیا ایرک ٹرمپ ،لاراٹرمپ ،ایلون مسک اورجینسن ہوانگ امریکی وفد میں شامل
بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے اہم سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ،جہاں ان کا ریڈکارپٹ استقبال کیاگیا،صدر ٹرمپاس دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے ۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے دورہ چین کا خیر مقدم کرتے ہیں،دونوں صدور دوطرفہ تعلقات، عالمی امن اور اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ چین امریکا کے ساتھ برابری، باہمی احترام، مشترکہ مفاد کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینے کیلئے تیار ہے ۔چین روانگی سے قبل واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چینی صدر کے ساتھ ایران جنگ کے بارے میں طویل بات کریں گے ،انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران کے معاملے پر چینی صدر کی مدد کی ضرورت ہے ۔ بیجنگ آمد پر چین کے نائب صدر ہان ژنگ نے صدر ٹرمپ کا استقبال کیا ، ہان ژنگ کا شمار چین کے اعلیٰ ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے اور ٹرمپ کے استقبال کیلئے انہیں بھیجنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین کی اعلیٰ قیادت امریکی صدر کا احترام کرتی ہے ۔
اس سے قبل 2017 کے دوران ٹرمپ کا چین میں استقبال کرنے کیلئے ایک سٹیٹ کونسلر کو بھی بھیجا گیا تھا،خیال رہے گزشتہ برس ٹرمپ کی بطور صدر حلف برداری کی تقریب میں چین کے نائب صدر بھی موجود تھے ۔امریکی صدر کے استقبال کیلئے تقریباً 300 چینی نوجوان بھی موجود تھے ، جنہوں نے ہاتھوں میں امریکی اور چینی پرچم اٹھا رکھے تھے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سرکاری جہاز میں آنے والوں میں ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ، ان کی بہو لارا ٹرمپ بھی شامل تھیں،ٹیسلا کے بانی ایلون مسک اور این ویڈیا کے بانی جینسن ہوانگ بھی ٹرمپ کے ہمراہ ہیں۔اگرچہ ٹرمپ چین پہنچ چکے ہیں تاہم دورے کی مرکزی سرگرمیاں آج جمعرات اور کل جمعے کو طے ہیں۔ آج چینی صدر شی جن پنگ گریٹ ہال آف دا پیپل میں صدر ٹرمپ کا استقبال کریں گے ، دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہوگی، شام میں ایک عشائیہ بھی طے ہے ۔ کل جمعہ کے روز بیجنگ کے ژونگنانہائی گارڈن میں صدر شی کے ساتھ فوٹوسیشن ہوگا ، یہ مقام کمیونسٹ پارٹی کا ہیڈکوارٹرز ہے ، یہاں غیر ملکی رہنماؤں کو مدعو کرنا اکثر قربت کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ اور صدر شی کے درمیان چائے پر ایک اور دوطرفہ ملاقات ہوگی۔ اس کے بعد ایک ظہرانہ بھی طے ہے ،جس کے بعد صدر ٹرمپ کو ایئرپورٹ پر الوداعیہ دیا جائے گا۔ ٹرمپ کی بیجنگ آمد کے موقع پر بیجنگ میں سڑکوں کے کناروں پر پولیس اور فوجی تعینات ہیں، چینی حکومت عموماً کسی بھی رہنما کی ملک آمد پر سکیورٹی کے انتظامات بڑھا دیتی ہے تاہم امریکا کے صدر کے معاملے میں یہ انتظامات بظاہر کہیں زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔