4.2فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل نہ ہوسکا، معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر، فی کس آمدن 1901 ڈالر

4.2فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل نہ ہوسکا، معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر، فی کس آمدن 1901 ڈالر

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی میں رواں مالی سال کیلئے جی ڈی پی شرح نمو 3.70فیصد منظور، درآمدات 56ارب ڈالر ، ایف بی آر وصولیاں 10262ارب، ترسیلات 33ارب ڈالر رہیں آٹوموبائل پیداوار 61فیصد بڑھی، تعمیراتی شعبہ کی شرح نمو میں 5.7فیصد ، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6فیصد اضافہ ریکارڈ ، کپاس کی پیداوار ،بیرونی سرمایہ کاری میں کمی ہوئی

 اسلام آباد(مدثرعلی رانا) حکومت رواں مالی سال کیلئے بجٹ اہداف کے مطابق 4.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ حاصل نہ کر سکی، نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی میں رواں مالی سال 2025-26 کیلئے جی ڈی پی شرح نمو 3.70 فیصد کی منظوری دے دی گئی۔ معیشت کا حجم 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ رواں مالی سال اب تک پاکستان کی فی کس آمدن 1901 ڈالر ریکارڈ ہوئی۔ مالی سال 2025-26 کی تیسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.99 فیصد ریکارڈ ہوئی۔درآمدات 56 ارب ڈالر ، ایف بی آر وصولیاں 10262 ارب، ترسیلات 33 ارب ڈالر رہیں۔

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی میں پہلی سہ ماہی کی شرح نمو 3.63 فیصد سے بڑھا کر 3.92 فیصد جبکہ دوسری سہ ماہی کی شرح نمو 3.89 فیصد سے بڑھا کر 4.05 فیصد کی منظوری دی گئی۔مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی عبوری شرح نمو 2.89 فیصد، صنعتی شعبے کی عبوری شرح نمو 3.51 فیصد جبکہ سروسز سیکٹر کی شرح نمو 4.09 فیصد رہی۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6.11 فیصد جبکہ آٹوموبائل شعبے کی پیداوار میں 61.66 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی میں تعمیراتی شعبے کی شرح نمو 5.73 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ گندم کی پیداوار 28.3 ملین ٹن سے بڑھ کر 29.6 ملین ٹن رہی۔ چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اور گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ کپاس کی پیداوار 7.084 ملین بیلز سے کم ہو کر 7.052 ملین بیلز رہی۔مالی سال 2025-26 میں معیشت کا حجم 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ مقامی کرنسی کے مطابق معیشت کا مجموعی حجم 127 ٹریلین روپے یعنی 1 لاکھ 27 ہزار ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ فی کس آمدن 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے رہی۔رواں مالی سال زرعی شعبے کیلئے گروتھ ہدف 4.5 فیصد، صنعتوں کیلئے 4.3 فیصد اور خدمات کی فراہمی کیلئے 4 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔

بڑی فصلوں کی ترقی کا ہدف 6.7 فیصد، کپاس کی پیداوار کا ہدف 7 فیصد، لائیو سٹاک 4.2 فیصد، جنگلات 3.5 فیصد، ماہی گیری تقریباً 3 فیصد، معدنیات تقریباً 3 فیصد، مینوفیکچرنگ 4.7 فیصد، لارج سکیل مینوفیکچرنگ 3.5 فیصد، سمال سکیل صنعت 8.9 فیصد، تعمیرات 3.8 فیصد، بجلی، گیس و واٹر سپلائی 3.5 فیصد، ہول سیل و ریٹیل 3.9 فیصد، مواصلات و ٹرانسپورٹ 3.4 فیصد، ہوٹل و غذائی خدمات 4.1 فیصد، اطلاعات 5 فیصد، انشورنس و مالیات 5 فیصد، ریئل اسٹیٹ 4.2 فیصد، تعلیم 4.5 فیصد، صحت و سماجی خدمات 4 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔

سرمایہ کاری کا ہدف 14.7 فیصد، نجی سرمایہ کاری 9.8 فیصد، قومی بچتیں 14.3 فیصد جبکہ مہنگائی 7.5 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔اہداف کے مقابلے میں رواں مالی سال کپاس کی گروتھ 0.7 فیصد، لائیو سٹاک 3.7 فیصد، جنگلات 2 فیصد، ماہی گیری 1.6 فیصد، معدنیات 0.3 فیصد رہی۔ مینوفیکچرنگ میں 6.6 فیصد، لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 6.1 فیصد، سمال سکیل صنعت میں 8.5 فیصد اور تعمیرات میں 5.8 فیصد گروتھ ریکارڈ کی گئی۔ ہول سیل و ریٹیل شعبے کی گروتھ 3.7 فیصد، مواصلات و ٹرانسپورٹ 2.3 فیصد، ہوٹل و غذائی شعبہ 3.4 فیصد، اطلاعات 7.5 فیصد، انشورنس و مالیات 0.3 فیصد، ریئل سٹیٹ 3.6 فیصد، تعلیمی شعبہ 5.2 فیصد جبکہ صحت و سماجی خدمات میں 6.8 فیصد گروتھ ریکارڈ ہوئی۔رواں مالی سال کیلئے آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد، مہنگائی 7.2 فیصد اور بے روزگاری 6.9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے ۔

وزیر خزانہ نے معاشی شرح نمو 4 فیصد تک رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا تھا جبکہ سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ نے 3.7 فیصد سے 4.5 فیصد گروتھ کا تخمینہ دیا تھا۔پلاننگ کمیشن ڈویلپمنٹ آؤٹ لک کے مطابق جولائی سے اپریل کے دوران مہنگائی کی شرح بڑھ کر 6.2 فیصد رہی جو گزشتہ سال 4.7 فیصد تھی۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جولائی سے اپریل کے دوران 10 ہزار 262 ارب روپے رہیں جس میں سالانہ بنیادوں پر 10.3 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ برآمدات 30.9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 30.6 ارب ڈالر رہ گئیں جبکہ درآمدات 56.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جس میں 8.3 فیصد اضافہ ہوا۔ ترسیلات زر جولائی سے اپریل کے دوران بڑھ کر 33.9 ارب ڈالر ہوگئیں جبکہ خالص بیرونی سرمایہ کاری کم ہو کر 1.35 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئی جو گزشتہ سال 1.86 ارب ڈالر تھی۔ نجی شعبے کو قرضوں کا حجم بڑھ کر 10 ہزار 790 ارب روپے ہوگیا جس میں سالانہ 12.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں