بلوچستان : جھڑپ میں میجر اور 4 جوان شہید، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان : جھڑپ میں میجر اور 4 جوان شہید، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشتگرد ہلاک

ضلع بارکھان میں کارروائی ،شہدا میں میجر توصیف بھٹی ، نائیک فدا حسین، سپاہی سہیل احمد،ذاکر حسین،محمد ایاز شامل :آئی ایس پی آر، قوم شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کریگی،وزیراعظم افغانستان نئی دہلی کی پراکسی ، دہشتگردی روکنے کی یقین دہانی نہیں کروا رہا، دہلی اور کابل میں کوئی تفریق نہیں ،جوبھارت سے کیا وہی کابل کیساتھ کرینگے :خواجہ آصف،قومی اسمبلی میں خطاب

راولپنڈی (خصوصی نیوز رپورٹر،نامہ نگار،دنیا نیوز)بلوچستان کے ضلع بارکھان میں فتنہ الہندوستان کیخلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران جھڑپ میں میجر اور 4فوجی جوان شہید ، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشتگرد ہلاک ہو گئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان نے ضلع بارکھان کے علاقے نوشام میں 13مئی کی صبح بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کلیئرنس اور سرچ آپریشن کیا، فورسز نے دہشتگردوں کے ایک گروہ کا سراغ لگا کر مؤثر کارروائی کی ،شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی حمایت یافتہ 7 دہشتگرد مارے گئے ،ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھما کا خیز مواد برآمد کیا گیا ہے، آئی ایس پی آر کے مطابق شدید جھڑپ کے دوران پاک فوج کے فیلڈ آفیسر سمیت 5 جوان شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے ، شہداء میں میجر توصیف احمد بھٹی، نائیک فدا حسین، سپاہی ذاکر حسین، سپاہی سہیل احمد اور سپاہی محمد ایاز شامل ہیں،شہید میجر توصیف احمد بھٹی کی عمر 31 برس تھی اور وہ ضلع پاکپتن کے رہائشی تھے جبکہ نائیک فدا حسین کا تعلق سکھر، سپاہی ذاکر حسین کا سکردو، سپاہی سہیل احمد کا خانیوال اور سپاہی محمد ایاز کا رحیم یار خان سے تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے ،ترجمان پاک فوج کے مطابق عزمِ استحکام وژن کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گے ، وزیر اعظم شہباز شریف نے 7 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کے افسروں و اہلکاروں کی پذیرائی کی ہے جبکہ جام شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے ،انہوں نے شہداء کی بلندی درجات اور انکے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی،وزیر اعظم نے کہا کہ وطن کے عظیم سپوتوں نے ملک کی حفاظت کے دوران عہد وفا کی عظیم مثال قائم کی، پاکستانی قوم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

 اسلام آباد(نامہ نگار،سٹاف رپورٹر)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ افغانستان دہشتگر دی خاتمے کیلئے بات چیت پرتیار نہیں ،تو جودہلی کیساتھ کیا وہی کابل کیساتھ کرینگے ، پاکستان کے خلاف جنگ کا بل حکومت کے ذریعے لڑی جا رہی ہے ،پاکستان کے حوالے سے اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی تفریق نہیں،معرکہ حق میں شکست کے بعدبھارت اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان کے خلاف براہ راست تصاد م کی جرات نہیں کرے گا، پاکستان کی مسلح افواج بلتستان سے لیکر گوادر تک پاکستان کیلئے شہادتیں دے رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان، تمام صوبوں اور ملک کی بقاء کی جنگ ہے ۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں ارکان کے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہاکہ یہ بات خوش آئند ہے کہ اس وقت دہشت گردی کے معاملہ پروفاق خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ ہے ، نقصان ہمارا ایک ہے ،یہ اچھی بات ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سارے ایک صفحہ پرہوں، پاکستان نے کابل حکومت کے ساتھ طویل مذاکرات کئے ہیں مگروہ اپنی سرزمین کوپاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے کے حوالہ سے کسی قسم کے تحریری تعاون کیلئے تیارنہیں ،اس وقت افغانستان کی حکومت بھارت اور ہندواتواکی پراکسی بن گئی ، اب پاکستان کے خلاف ساری جنگ کابل حکومت کے ذریعے لڑی جارہی ہے ۔ وزیردفاع نے کہاکہ افغانستان کی پشت پناہی اور سہولت کاری سے پاکستان کی سرزمین پردہشت گردی ہورہی تھی،اس ماحول کے باوجود پاکستان نے افغانستان کے ساتھ گفت و شنید اور مذاکرات کئے جس کاکوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

وزیردفاع نے کہا ہوسکتا ہے کہ کسی تیسرے ملک کے ذریعے رابطے کی کوششیں ہورہی ہوں، ہم اس کے حوالہ سے حتمی بات نہیں کر سکتے ۔ وزیر دفاع نے کہاکہ پاکستان نے پوری دیانت داری کے ساتھ تین ملکوں ترکیہ،قطر اور سعودی عرب کے ذریعہ کوششیں کی ہیں اور منت کی ہے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں،دہشت گردوں کی تنصیبات، کیمپوں کوختم کیا جائے اور ان کی سہولت کاری کاسلسلہ روک دیا جائے لیکن وہ اس بات کی طرف نہیں آتے ،اس کاایک مطلب نکلتا ہے کہ تنگ آمدبجنگ آمد،پھرتوجنگ ہی ہوگی،چاہے مشرقی سرحد ہو یامغربی سرحد، ایک ہی دشمن بیٹھا ہے اور اس میں کوئی تفریق نہیں ہے ،اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی تفریق نہیں ،ہماری خواہش ضرورہے کہ یہ تفریق ہو اور وہ ہمارے ساتھ بات چیت کرے اور ایسے انتظامات کئے جائیں جس سے دہشت گردی کاسدباب ہوسکے لیکن اگروہ اس کیلئے تیارنہیں ہے تو جودہلی کے ساتھ کیاہے وہی کابل کے ساتھ بھی ہوگا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں