720محنت کشوں کو گھر فراہم، اضلاع کو خود مختار بنا کر ترقیاتی کام کرائیں گے : مریم نواز

720محنت کشوں کو گھر فراہم، اضلاع کو خود مختار بنا کر ترقیاتی کام کرائیں گے : مریم نواز

گھروں کی چابیاں،الاٹمنٹ لیٹرزلینے والوں کو اپنی چھت مبارک ، کمشنرز ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں نہیں، فیلڈ میں نظر آئیں فیصل آباد نجی سوسائٹی میں بچی کے گڑھے میں گر کر جاں بحق ہونے پر برہمی،آئندہ ایسے واقعہ پر مالکان گرفتار ہونگے :وزیراعلیٰ

 لاہور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ محنت کشوں کیلئے مفت گھروں کی فراہمی کا منفرد منصوبہ بنایا گیا جس کے تحت 720محنت کش اپنے گھروں کے مالک بن گئے ہیں ،وزیراعلیٰ نے محنت کشوں کو فلیٹ کی چابیاں دے کر گھروں کی فراہمی کا باقاعدہ آغازکیا،انہوں نے پیسی کے زیر اہتمام 720فلیٹس کی فراہمی کی تقریب میں خصوصی شرکت کی،ان کو مفت فلیٹس اور دیگر جاری پراجیکٹس پر بریفنگ دی گئی،سندر سٹیٹ فلیٹس پراجیکٹس میں بیوگان اور سپیشل افراد کیٹیگری کو خصوصی ترجیح دی گئی،محنت کشوں کو فلیٹس کی فراہمی کی تقریب میں محکمہ لیبر کے پروگرامز پر ڈاکومنٹری پیش کی گئی،وزیر اعلیٰ نے محنت کشوں کو بلا معاوضہ فلیٹس کے الاٹ منٹ لیٹرز اور چابیاں دیں ،بیوہ خاتون کیٹیگری میں سونیا پرویز،سماعت سے محروم یاسر حنیف اور پولیو کے مریض فرحان علی کو بلا معاوضہ فلیٹس کے الاٹمنٹ لیٹرز اور چابیاں دی گئیں ،وزیر اعلیٰ نے محمد واصف، شہادت علی،عابدہ علی،کوثر بی بی، محمد اشفاق احمد کو بھی بلا معاوضہ فلیٹس کا الاٹمنٹ لیٹر اور چابیاں د یں۔

وزیر اعلی ٰنے محنت کش خاندانوں کو اپنا گھر حاصل کرنے پر مبارک باددی،اس موقع پر مزدوروں کے جذبات دیدنی تھے ،انہوں نے کہا کہ محنت کش اللہ کے دوست ہیں،آپکو اپنی چھت،اپنا گھر،اپنا مکان مبارک ہو۔صوبائی وزیر لیبر منشا اللہ بٹ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ گھر کی چھت ہر محنت کش کا خواب ہوتا ہے ، مریم نواز شریف نے خواب کو تعبیر دی۔ دریں اثنا وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت کمشنرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت مقامی ریونیو سے عوامی فلاح کے منصوبوں کی منظوری دی گئی، ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان کے کمشنروں نے وزیر اعلیٰ کودستیاب وسائل اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی،وزیراعلیٰ مریم نواز نے تمام اضلاع کو خود مختار بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا جس کے تحت پنجاب بھر میں اضلاع کے اپنے مالی وسائل سے اربوں روپے کی لاگت سے ترقیاتی کاموں کا آغازکیا جائے گا۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے کڑے سوالات کیے اور کہا کمشنرز اب ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں نہیں، فیلڈ میں نظر آئیں۔ انہوں نے فیصل آباد ڈویژن کی نجی سوسائٹی میں تین سالہ بچی کے کھلے گڑھے میں گر کر جاں بحق ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیااور ہدایت کی کہ اگر کوئی شہری مین ہول میں گرا تو سوسائٹی مالکان کو گرفتار کیا جائے ، انہوں نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے ہر ماہ کھلے مین ہولز نہ ہونے کا بیان حلفی لینے کابھی حکم دیا،انہوں نے پنجاب بھر کی تمام نجی سوسائٹیز کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ سرکاری و نجی سکولوں کی بلڈنگز پر خاص نظر رکھی جائے ،انہو ں نے کمشنرز کو خود فیلڈ وزٹ کرنے کا حکم دیا ،انہوں نے کہا کچھ افسروں کی کارکردگی بہتر ہے لیکن کچھ نے صرف آئی واش بنایا ہوا،زمین پر اتنا کام نظر نہیں آ رہا جتنا آنا چاہیے تھا،عوام کو ریلیف ملنا چاہیے.

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کمشنرز حکومت کی آنکھیں، کان اور بازو ہیں، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، ضلعی انتظامیہ کو میرے اعتماد کی لاج رکھنا ہوگی،غفلت کی گنجائش نہیں، وزیراعلیٰ نے ساہیوال میں عالمی معیار کی سڑکیں بنانے کا حکم دیا اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ،چیچہ وطنی چوک کی خوبصورتی اور مین بازار کو ماڈل بازار بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دکانوں کے سامنے تجاوزات اور خوبصورتی میں رکاوٹیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔انہوں نے ساہیوال شہر کے داخلی راستے پر خوبصورت اور پرکشش انٹری پوائنٹ بنانے کا حکم دیا،پاکپتن نہر کے کناروں کی خوبصورتی کے ساتھ سولر لائٹس لگانے کی ہدایت کی، سرگودھا میں سیف سٹی کیمروں کی تنصیب کا عمل تیز کرنے ،فیصل آباد میں اینڈ ٹو اینڈ پیومنٹ تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ وزیر اعلیٰ نے تمام منصوبوں میں کام کے معیار پر کوئی سمجھوتانہ کرنے کا سخت حکم دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں