برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کو دھچکے پہ دھچکا ،وزیرصحت مستعفی

برطانوی  وزیراعظم  کیئر  سٹارمر  کو  دھچکے  پہ  دھچکا ،وزیرصحت  مستعفی

کیئر سٹارمر کی قیادت پر اعتماد نہیں رہا،مزید حکومت کا حصہ رہنا باعزت اور اصولی رویے کے خلاف ہوگا:مستعفی وزیر 4جونیئر وزیر پہلے ہی مستعفی ہوچکے ،سابق ڈپٹی وزیراعظم اینجلا رینر بطور متبادل پارٹی قیادت میدان میں آنے کیلئے تیار

 لندن (اے ایف پی)برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کا سیاسی مستقبل بدستور غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے ، وزیر صحت ویس سٹریٹنگ نے وزیر اعظم سے اختلافات کے بعد اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔ایکس پر شیئر کیے گئے ایک خط میں انھوں نے کہا کہ انھیں کیئر سٹارمر کی قیادت پر اعتماد نہیں رہا اور ان کے بقول اب مزید حکومت کا حصہ رہنا باعزت اور اصولی رویے کے خلاف ہوگا۔دوسری جانب وزیراعظم کے ممکنہ مدمقابل پارٹی قیادت کے لیے میدان میں آنے کی تیاری کر رہے ہیں، جن میں سابق ڈپٹی وزیرِاعظم اور مقبول رہنما اینجلا رینر بھی شامل ہیں۔سٹارمر نے 2024 کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو کامیابی دلائی تھی اور 14 سالہ کنزرویٹو حکومت کا خاتمہ کیا تھا، لیکن گزشتہ ہفتے ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بری کارکردگی کے بعد وہ شدید دباؤ میں ہیں۔ وزیر صحت سے پہلے چار جونیئر وزرا مستعفی ہو چکے تھے جبکہ لیبر پارٹی کے 80 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ نے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس کے باوجود سٹارمر نے عہدے پر رہنے کا اعلان کیا ہے ، جبکہ 100 سے زیادہ ارکانِ پارلیمنٹ نے ان کی حمایت بھی کی ہے ۔دوسری جانب اینجلا رینر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کے ٹیکس حکام نے انہیں ٹیکس کے معاملے میں جان بوجھ کر غلطی کے الزام سے بری الذمہ قرار دیا ہے ، جس کے بعد ان کے لیے قیادت کی دوڑ میں شامل ہونے کا راستہ کھل گیا ہے ۔46 سالہ رینر نے کہا کہ وہ خود قیادت کی دوڑ شروع نہیں کریں گی، لیکن انہوں نے دی گارڈین کو بتایا کہ وہ تبدیلی لانے کے لیے جو بھی کردار ادا ہو سکے گا ادا کریں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں