امارات ایران کیخلاف جارحیت میں براہ راست شامل:عراقچی
اسرائیل کیساتھ اتحاد نے آپ کو تحفظ فراہم نہیں کیا، اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں آبنائے ہرمز ایران سے تعاون کرنیوالے جہازوں کیلئے کھلی :برکس اجلاس میں خطاب
تہران ،نئی دہلی(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات پر ایران کے خلاف فوجی حملوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اسرائیل کے ساتھ اپنے ‘اتحاد پر نظرِثانی’ کرنی چاہیے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار نئی دہلی میں منعقدہ برکس وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ مجھے یہ کہنا ہو گا کہ متحدہ عرب امارات میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست شامل تھا، انھوں نے اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف توپ خانے اور دیگر سازوسامان کے استعمال کے لیے مہیا کیا۔انھوں نے 2020 میں معمول پر آنے والے یو اے ای اور اسرائیل کے تعلقات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ آپ کے اتحاد نے بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کیا، لہٰذا ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں۔مزید برآں، ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے تاہم صرف اُن جہازوں کے لیے جو ایرانی حکام کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہے کہ امریکا کی غنڈہ گردی کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے ، امریکی غنڈہ گردی کے خلاف ہماری مزاحمت نئی جنگ نہیں، ہم میں سے اکثر قومیں اسی جبر کا مختلف شکلوں میں سامنا کرتی رہی ہیں۔آج ہم پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے کے قریب ہیں اور ہم اس مشترکہ اور خطرناک چیلنج کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔
انہوں نے کہا زوال پذیر سلطنتیں اپنے انجام کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں، انہوں نے کہا ایک زخمی جانور اپنے خاتمے کے راستے پر بے بسی سے پنجے مارتا اور دھاڑتا ہے ۔یاد رہے کہ برکس میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں تاہم 2024 میں روس کے شہر قازان میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے دوران اس کی رکنیت میں توسیع کی گئی تھی۔نئے اراکین میں مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کو شامل کیا گیا۔انڈین وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ہم بین الاقوامی تعلقات میں نمایاں اتار چڑھاؤ کے وقت اکٹھے ہوئے ہیں،جاری تنازعات، اقتصادی غیر یقینی صورتحال، تجارت، ٹیکنالوجی اور آب و ہوا میں چیلنجز عالمی منظر نامے کو تشکیل دے رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ خاص طور پر ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک سے یہ توقع بڑھ رہی ہے کہ برکس ایک تعمیری اور مستحکم کردار ادا کرے گا۔انڈین وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ممالک کی ترقی اور ترقی سے متعلق مسائل مسلسل توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بہت سے ممالک کو توانائی کے تحفظ، خوراک، کھاد اور صحت کے ساتھ ساتھ مالی وسائل تک رسائی کے شعبوں میں چیلنجز کا سامنا ہے ۔