لبنان: صلیبی جنگوں کے دور کے الشقیف قلعہ پر اسرائیلی قبضہ، سلامتی کونسل کا آج ہنگامی اجلاس طلب
اسرائیلی فوج نے 44سال بعدقلعے پر پرچم لہرادیا، ایوبی نے 1190 میں فتح کیا تھا،قلعہ کواہم سٹریٹجک فوجی مقام حاصل قلعہ سطح سمندر سے 700میٹر بلند ، 12ویں صدی سے منسوب ، لبنان اسرائیل کے سرحدی علاقوں پر نظر رکھی جا سکتی قلعہ پر قبضہ پالیسی میں تبدیلی :نیتن یاہو، سٹریٹجک فتح ہوئی :اسرائیلی وزیر ،لبنانی وزیر اعظم کی اسرائیلی قبضے کی مذمت
تل ابیب ،بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک،اے ایف پی)اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں تاریخی اور جنگی اعتبار سے اہمیت کے حامل الشقیف قلعے (بیوفورٹ)پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے قلعے پر قبضے کو سٹریٹجک فتح قرار دیا ۔اسرائیل کاٹز نے کہا کہ حزب اللہ کے خلاف جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر جاری بیان میں لکھا کہ الشقیف کی تاریخی جنگ کے 44 سال بعد اور1982 کی پہلی لبنان جنگ میں ہلاک ہونیوالے فوجیوں کی یاد کے دن، ہماری افواج ایک بار پھر اس قلعے میں داخل ہوئیں اور وہاں اسرائیلی پرچم لہرایا۔ وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایات اور میرے احکامات پر اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دی، دریائے لیطانی عبور کیا اور بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کر لیا، جو الجلیل (گیلیل) کے علاقے میں اسرائیلی بستیوں کے دفاع اور ہماری افواج کی سلامتی کیلئے انتہائی اہم مقام ہے ۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کاکہناہے کہ جنوبی لبنان میں بیو فورٹ قلعے پر قبضہ حزب اللہ کیخلاف مہم میں اہم موڑ ہے ۔انھوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا،
آج ہم ایک مختلف انداز میں بیو فورٹ واپس آئے ہیں، ہم متحد، پرعزم اور پہلے سے زیادہ مضبوط واپس آئے ہیں۔ قلعے پر قبضہ ایک قدم اور پالیسی میں بنیادی تبدیلی ہے جو ہم نے اختیار کی ہے ۔ ہم نے خوف کی رکاوٹ کو ہٹا کر پہل کی اور شام، غزہ اور لبنان میں تمام محاذوں پر کام کر رہے ہیں۔نیتن یاہو نے لبنان میں کارروائیاں مزید گہری کرنے کا اعلان کیا ۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری تصویر میں اسکے فوجیوں کو اُس مقام کے قریب دکھایا گیا ہے جو بظاہر بیوفورٹ قلعہ معلوم ہوتا ہے ۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے اتوار کی صبح حاصل کی گئی تصاویر میں قلعے کے پر اسرائیلی فوج کا جھنڈا لہراتا ہوا دکھائی دیاتاہم علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں جبکہ اطراف میں دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے نظر آئے ۔یہ تاریخی قلعہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقے پر نظر رکھنے کے لحاظ سے خاصہ اہم ہے اور عسکری اعتبار سے اسے انتہائی معاون مقام سمجھا جاتا ہے ۔اسرائیلی افواج ماضی میں بھی تقریباً دو دہائیوں تک جنوبی لبنان پر قبضے کے دوران اس قلعے کو فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرتی رہی تھیں۔ اسرائیل کا جنوبی لبنان پر قبضہ 2000 میں ختم ہوا تھا۔واضح رہے جنوبی لبنان کے تاریخی الشقیف (بیوفورٹ)قلعے کو صلاح الدین ایوبی نے 1190 میں صلیبی افواج کے طویل محاصرے کے بعد فتح کیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے 1187 میں جنگِ حطین میں صلیبیوں کو شکست دینے کے بعد متعدد قلعوں پر قبضہ کر لیا تھاتاہم الشقیف قلعہ کافی عرصے تک مزاحمت کرتا رہا۔ بالآخر 1190 میں قلعے کے محافظوں نے معاہدے کے تحت اسے صلاح الدین کے حوالے کر دیا۔ بعد میں تقریباً 60 برس بعد صلیبیوں نے دوبارہ اس قلعے پر قبضہ کر لیا جبکہ 1268 میں مملوک سلطان بیبرس نے اسے دوبارہ مسلم اقتدار میں شامل کر لیا۔ الشقیف قلعہ جنوبی لبنان کا تاریخی اور انتہائی اہم فوجی قلعہ ہے جسے انگریزی میں Beaufort Castle کہا جاتا ہے ۔ یہ قلعہ لبنان کے ضلع النبطیہ میں دریائے لیطانی کے قریب بلند پہاڑی چوٹی پر ہے جو سطح سمندر سے تقریباً 700 میٹر بلند ہے ۔صلیبی جنگوں کے دور میں اسے بڑی اہمیت حاصل تھی اور موجودہ ڈھانچے کا بیشتر حصہ 12ویں صدی سے منسوب ہے ۔قلعے سے جنوبی لبنان اور اسرائیل کے سرحدی علاقوں پر وسیع نظر رکھی جا سکتی ہے ،
اسرائیل لبنان سرحد سے الشقیف قلعہ کا فاصلہ تقریباً 10 سے 15 کلومیٹر ہے تاہم مختلف مقامات سے یہ فاصلہ کچھ کم یا زیادہ ہو سکتا ہے ۔ قلعہ اپنی بلندی اور محل وقوع کی وجہ سے جنوبی لبنان کے اہم ترین دفاعی مقامات میں شمار ہوتا ہے ۔ ہفتے کو حزب اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ منگل سے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع تین قصبوں کی جانب اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کی کوششوں کو ناکام بنا رہی ہے ۔تنظیم نے بیان میں کہا کہ اسکے جنگجو منگل کی صبح سے مسلسل اسرائیلی فوج کی زوطر الشرقیہ کے مضافات اور یحمر الشقیف اور دبین قصبوں کی جانب پیش قدمی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔حزب اللہ کے مطابق اسرائیلی فوج ابتک مذکورہ قصبوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور اب بھی ان علاقوں کے نواح میں اپنی پوزیشنیں تبدیل کرتے ہوئے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔ حزب اللہ کے جنگجو اسرائیلی پیش قدمی کو روکنے کیلئے مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں اور علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آج ہنگامی اجلاس میں لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر غور کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں موجود سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس فرانس کی درخواست پر بلایا گیا ہے ، جنوبی لبنان میں بڑھتی کشیدگی اور تاریخی قلعے پر قبضے کے بعد کی صورتحال پرغورکیا جائیگا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے کہا کہ لڑائی کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا ناگزیر ہے ۔ میکخواں نے ایکس پر لکھا کہ خطے میں استحکام کیلئے امریکا اور ایران میں فوری معاہدہ انتہائی اہم ہے ۔ لبنان کی خودمختاری اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا لازمی ہے ۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے اور زمینی دستے دریائے لیتانی عبور کر کے نئے علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں۔اس پیش قدمی سے قبل اسرائیلی فضائیہ نے دریائے لیتانی کے شمال میں واقع حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر فضائی حملے کیے ۔ اسرائیلی فوج نے اتوار کی صبح اعلان کیا کہ جنوبی لبنان میں جھڑپ کے دوران اسرائیلی فوج کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا جسکی شناخت سٹاف سارجنٹ مائیکل تیوکِن کے نام سے ہوئی جو حزب اللہ کے دھماکا خیز ڈرون حملے میں مارا گیا جبکہ واقعے میں مزید 4 اسرائیلی فوجی بھی زخمی ہوئے ۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق مائیکل تیوکِن کا تعلق یوکرین سے تھا اور وہ 6 سال قبل اسرائیل منتقل ہوا تھا۔بمباری میں شامی پناہ گزین خاندان کے 9 افراد شہید ہو گئے ،جنوبی لبنان کے شہر تیرے میں صہیونی فضائی حملے میں ہیرم ہسپتال کے 13 عملے کے افراد زخمی ہو گئے ، لبنان کی وزارت صحت نے بیان میں کہا کہ حملے سے ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا ،وزارت نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ بڑھتے ہوئے صہیونی حملوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے ۔لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اسرائیل پر جلاؤ گھیراؤ کی حکمتِ عملی کی پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے قصبوں اور دیہات کو منظم انداز میں تباہ کر رہا ہے ، جسکے باعث شہریوں کو اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ۔
اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافہ نہ تو خطے میں سلامتی لاسکتا ہے اور نہ ہی استحکام پیدا کرتا ہے ۔حزب اللہ کے راکٹوں اور ڈرونز سے حملوں کے بعداسرائیل نے سرحدی علاقوں میں سکول بند رکھنے کا اعلان کردیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی سرحدی علاقوں میں تمام سکو ل آج بند رہیں گے جبکہ عوامی اجتماعات کو محدود کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 50 افراد تک محدود کر دیا گیا ہے ۔ شمالی اسرائیل کے ساحلی علاقے بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔ اسرائیل کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ شمالی علاقے میں میڈیکل سنٹرکو حفاظتی اقدامات کے تحت زیر زمین محفوظ کمپلیکس میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج نے اتوار کو 26 سالہ فلسطینی مزدور عماد ہارون اشتیہ کو شہید کر دیا ،وہ مقبوضہ مغربی کنارے سے القدس میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔عماد نابلوس کے قریبی علاقے سیلم کے رہائشی اور تعمیراتی کارکن تھے ۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل 2 ہزار سکوائر کلو میٹر پر مشتمل لبنان کے 20 فیصد علاقے پر قبضہ کرچکا ہے جبکہ نبطیہ شہر کے مزید علاقے خالی کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے اور صیہونی افواج کی جانب سے بمباری بھی کی جا رہی ہے ۔ صیہونی فوج 26 سال بعد پہلی بار لبنان سرحد میں اتنا اندر تک گھسی ہے ۔لبنانی میڈیا کے مطابق حملوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے گھروں میں سوئے متعدد افراد شہید اور زخمی ہوگئے ۔ادھر لبنانی وزیر اعظم نے اسرائیلی قبضے کی مذمت کی جبکہ مصر نے لبنان سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے انخلا کا مطالبہ بھی کیا۔