’’ایران جنگ کے خوف سے آزاد ہو چکا ‘‘

’’ایران جنگ کے خوف سے آزاد ہو چکا ‘‘

نیتن یاہو کی مخالفت سے ٹرمپ کے ایران سے متعلق منصوبوں کو دھچکا :اکانومسٹ

 لندن (نیوز مانیٹرنگ )مشرق وسطٰی میں جو باتیں کبھی ناقابلِ تصور تھیں، اب روزمرہ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکا اور اسرائیل دونوں نے ایران پر بمباری کی ہے ، جبکہ جواب میں ایران نے امریکی ہیلی کاپٹر ماگرایا، اسرائیل پر میزائل داغے اور کئی عرب ممالک پر حملے کیے ۔جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت جو ماضی میں کسی بھی بڑے تنازع سے بچنے کیلئے محتاط رویہ اختیار کرتی تھی، اب اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر چکی ہے ۔ ایران اب "کم شدت کے تنازعات" (Low-level conflict) پر ایک بڑا اور خطرناک جوا کھیل رہا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے دل سے براہِ راست جنگ کا خوف اب ختم ہو چکا ہے ۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حالیہ دنوں میں دو بار امریکی موقف کی مخالفت کی ہے ، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے منصوبوں کو دھچکا پہنچ رہا ہے ۔ بحیرہ روم اور آبنائے ہرمز کے علاقوں میں فوجی سرگرمیاں تیز ہیں۔ امریکی بحریہ کے ایک بغیر پائلٹ کے ڈرون نے آبنائے ہرمز میں گرے ہوئے پائلٹوں کو بحفاظت نکال کر سمندر میں تاریخ کی پہلی روبوٹک ریسکیو مہم مکمل کی ہے ۔ خلیجی جنگ کے اثرات کے بعد شام کو غیر متوقع فائدہ پہنچ رہا ہے ۔ عراق سے بحیرہ روم تک پرانے تیل کی برآمدی راستے کی بحالی سے شام کی نئی حکومت کو مالی اور سیاسی مدد مل رہی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں