ایران کا پلہ بھاری،اسرائیل بھونچکارہ گیا،نیتن یاہو کو الیکشن میں شکست کا سامنا
معاہدہ ریاستِ اسرائیل کیلئے ہولناک، سیاسی اور سکیورٹی تباہی،واشنگٹن میں اسکا اثر و رسوخ دم توڑ رہا :تجزیہ کاروں کی رائے ٹرمپ نے نیتن یاہو کی سخت سرزنش کی،ایران کے پاس جو ہری ہتھیار ہوتا تو اسرائیل دو گھنٹے بھی قائم نہ رہتا :امریکی صدر اسرائیلی افواج غزہ، لبنان اور شام میں ’’جب تک ضروری ہوا‘‘موجود رہیں گی، ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے :نیتن یاہو
تل ابیب (رائٹرز ، اے ایف پی ) امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے نے اسرائیلی قیادت کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی ہے ۔ اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس ماہرین نے اس معاہدے کو ریاستِ اسرائیل کیلئے ہولناک ،سیاسی اور سکیورٹی تباہی قرار دیتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ واشنگٹن میں اب اسرائیل کا اثر و رسوخ دم توڑ رہا ہے ، جبکہ تہران پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے ، ادھر ایران میں تختہ الٹنے کا خواب دیکھنے والے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا اپنا اقتدار خطر ے میں پڑ گیا ۔ اکتوبر میں ہونیوالے انتخابات میں انکی شکست کی پیشگوئی واضح طور پر کی جارہی ہے ۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ اسرائیل کیلئے ایک بڑا سٹریٹجک دھچکا ہے اور واشنگٹن میں اس کے گرتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے ۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہ ناممکن لگتا ہے کہ کوئی بھی مستقبل کا امریکی صدر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا خطرہ مول لے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کے اعلان سے محض چند گھنٹے قبل لبنان میں حملے کرنے پر نیتن یاہو کی سخت سرزنش کی، کیونکہ ان حملوں سے حتمی معاہدہ کھٹائی میں پڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ٹرمپ نے نیتن یاہو کے بارے میں کہا کہ وہ ایک بہت ہی مشکل انسان ہیں، اور سچ پوچھیں تو، انہیں یہ کرنے پر ہمارا بہت شکر گزار ہونا چاہیے ، کیونکہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا، تو اسرائیل دو گھنٹے بھی قائم نہ رہ پاتا۔نیتن یاہو کے اتحادی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے اسے پہلے ہی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں ہے ۔اگرچہ تجزیہ کار مذاکرات میں اسرائیل کی عدم موجودگی پر حیران نہیں ہیں،تاہم ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیل کے کم ہوتے ہوئے اثر و رسوخ نے انہیں حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے واضح موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ابتدائی معاہدہ اسرائیل کیلئے انتہائی بھیانک ہے اور اسرائیلی قیادت میں وزیر اعظم سے لے کر چیف آف سٹاف (آرمی چیف) تک کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں ہے جو اسے کسی دوسری نظر سے دیکھتا ہو۔نیتن یاہو جنہیں اکتوبر انتخابات کا سامنا ہے اور سروے کے مطابق ان میں ان کی شکست کی پیشگوئی کی جا رہی ہے ، اب ٹرمپ کی مخالفت کرنے کیلئے زیادہ تیار ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ایسے اسرائیلی عوام کا سامنا کر رہے ہیں جو رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسرائیل کی سکیورٹی کیلئے امریکی صدر کے عزم پر شکوک و شبہات کا شکار ہو چکے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہنگامی پر یس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ، لبنان اور شام میں ’’جب تک ضروری ہوا ‘‘موجود رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل ان تمام محاذوں پر قائم کردہ اپنے سکیورٹی زونز سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔