امریکا کا ہنگامی تیل ذخیرہ 43 سال کی کم ترین سطح پرآگیا
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران جنگ سے بڑھی قیمت قابو کرنے کیلئے ذخائر سے تیل نکالا
واشنگٹن (اے ایف پی ،مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی ہنگامی تیل کا ذخیرہ اس وقت 1983 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کو قابو میں لانے کیلئے ذخائر سے تیل جاری کرنے کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے جو ایران جنگ کے باعث بڑھی تھیں۔امریکی محکمہ توانائی کے مطابق سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو جو 1970 کی دہائی کے عرب تیل بحران کے بعد قائم کیا گیا تھا، اب کم ہو کر تقریباً 340 ملین بیرل رہ گیا ہے ، جو اپنی زیادہ سے زیادہ صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم ہے ، یہ سطح ایک تاریخی کم ترین حد کے قریب ہے ۔مارچ میں امریکی توانائی کے محکمے نے اعلان کیا تھا کہ وہ عالمی سطح پر مربوط کوششوں کے تحت ذخائر سے تیل جاری کرے گا، یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا۔اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو تقریباً 172 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں شامل کیا جائے گا، جس کے بعد ذخائر مزید کم ہو کر تقریباً 243 ملین بیرل رہ جائیں گے ، جو اس کی مجموعی منظور شدہ صلاحیت کا تقریباً ایک تہائی ہے ۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی مستقبل میں کسی بھی سپلائی بحران سے نمٹنے کی امریکی صلاحیت کو محدود کر سکتی ہے ۔امریکی محکمہ توانائی کے ترجمان نے کہا ہے کہ انتظامیہ اس ذخیرے کو اس کے اصل مقصد کے مطابق استعمال کر رہی ہے ، یعنی عالمی منڈیوں کو مستحکم رکھنا، سپلائی میں رکاوٹوں سے بچاؤ اور توانائی کے شعبے میں امریکی تحفظ کو یقینی بنانا۔محکمے کے مطابق یہ تیل کمپنیوں کوایکسچینج پروگرام کے تحت دیا جا رہا ہے ، جس میں کمپنیوں کو بعد میں یہ تیل سود سمیت واپس کرنا ہوتا ہے ۔ اب تک واپسی کی شرح تقریباً 26 فیصد رہی ہے ، جس سے حکومت کو اربوں ڈالر کے ممکنہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک سال میں اس ذخیرے میں تقریباً 200 ملین بیرل دوبارہ شامل کئے جائیں گے تاکہ اسے جزوی طور پر بحال کیا جا سکے ۔