وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ پر حملے کی سازش ناکام بنانیکا دعویٰ
5افراد گرفتار ، 23 ملزم ایپ ’سگنل ‘کے ذریعے رابطے میں تھے تقریب میں ڈرونز سے دھماکے ، پھر اسنائپرز نے فائرنگ کرنا تھی مقصد امریکا میں انقلاب لانا تھا،اتنی عسکریت پسندی کیوں ؟جے ڈی وینس
واشنگٹن (اے ایف پی )امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ مکسڈ مارشل آرٹس (UFC) کے ایک بڑے ایونٹ کے دوران حملے کی مبینہ سازش کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ ترین امریکی حکام شریک تھے ۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ متعدد افراد اس وقت حراست میں ہیں اور حملے کے مبینہ منصوبوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا ہے ۔امریکی میڈیا بشمول فوکس نیوز کے مطابق اب تک 5 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ تفتیش کاروں نے ممکنہ منصوبہ سازوں کے ایک نیٹ ورک میں شامل 23 افراد کی نشاندہی کی ہے ، جو پیغام رسانی کی ایپ 'سگنل'کے ایک گروپ چیٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے ۔گروپ کے مبینہ منصوبے کے مطابق اتوار کے روز وائٹ ہاؤس کے لان میں قائم عارضی یو ایف سی ارینا کے اوپر دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرونز کے ذریعے دھماکے کیے جانے تھے ، جس کے بعد اسنائپرز (نشانہ بازوں) کو مجمع میں موجود اعلیٰ شخصیات پر اندھا دھند فائرنگ کرنی تھی۔عدالتی دستاویزات کے مطابق گرفتار شدگان میں 19 سالہ ٹائسن پروپر بھی شامل ہے ، جسے 10 جون کو اوہائیو سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب اس کی والدہ نے پولیس کو اطلاع دی کہ ان کا بیٹا انٹرنیٹ پر ایک ایسے گروپ سے رابطے میں ہے جو شدید مذہبی اور حکومت مخالف جذبات رکھتا ہے ۔ پروپر کے قبضے سے ایک اے آر طرز کی رائفل اور ہزاروں گولیاں برآمد ہوئیں۔ شکایت نامے کے مطابق اس حملے کا مقصد امریکا میں ایک انقلاب کا آغاز کرنا تھا۔ واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی حفاظت کے لیے انتہائی جدید ترین نگرانی کے نظام، باڑ، چیک پوائنٹس، فضائی حملے روکنے کی صلاحیت، اسنائپرز اور فوری ردعمل دینے والے دستے ہر وقت تعینات رہتے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جو خود بھی اس تقریب میں موجود تھے ، نے فوکس نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے ڈیموکریٹس پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے اسے ایک منظم دہشت گردانہ سازش قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ بائیں بازو کے انتہا پسند گروپوں کے نیٹ ورکس کی تفتیش کر رہی ہے ۔ وینس نے کہاکہ واشنگٹن میں میرے ڈیموکریٹ ساتھیوں کو آئینے میں دیکھنا چاہیے اور خود سے پوچھنا چاہیے کہ آخر اتنی سیاسی عسکریت پسندی ان کی طرف سے کیوں آ رہی ہے ؟۔