ایرانی سپریم لیڈر کے جنازے میں لوگوں کو آبدیدہ دیکھ کر حیران ہوا: ٹرمپ
خیال تھا ایرانی عوام آیت اللہ خامنہ ای سے ناراض ہیں، جنازے میں قیادت کو نشانہ بناتے تو مذاکرات کیلئے کوئی نہ بچتا امریکا آج بھی دنیا کیلئے امید کی علامت ،نیتن یاہو سے بہترین تعلقات اور وہ جانتے ہیں کہ باس کون ہے :امریکی صدر
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں عوام کی بڑی تعداد اور جذباتی مناظر دیکھ کر وہ حیران رہ گئے ،انہوں نے ایران، اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے ۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کو دئیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کا خیال تھا ایرانی عوام آیت اللہ علی خامنہ ای سے ناراض ہیں اوران سے نفرت کرتے ہیں، مگر جنازے میں لوگوں کو آبدیدہ دیکھ کر حیران ہواہوں،شاید یہ آنسو حقیقی ہوں اور شاید نہ ہوں۔ ٹرمپ نے متنازع دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا چاہتا تو جنازے میں موجود اہم شخصیات کو نشانہ بنا سکتا تھا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ اس صورت میں مذاکرات کیلئے کوئی فریق باقی نہ رہتا۔صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدے کیلئے بے حد بے تاب ہے اور سوگ کی تقریبات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے ۔دریں اثنا امریکا کے 250ویں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج تاریخ کی مضبوط ترین فوج بن چکی ہے اور امریکا نے ایران کی فوجی قوت کو تباہ کر دیا ہے ۔
انہوں نے اپنی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے ، انتخابی اصلاحات، آئینی حقوق کے تحفظ اور امریکا کو سنہری دور میں داخل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا آج بھی دنیا کے لئے امید کی علامت ہے اور اسے کبھی ناکام نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ٹرمپ نے سابق فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امریکی عسکری طاقت اور قومی ترقی کو اپنی حکومت کی اہم کامیابی قرار دیا۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے تعلقات کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بہترین تعلقات ہیں اور نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نیتن یاہو آئندہ ہفتے وائٹ ہاؤس کا دورہ کر سکتے ہیں، جہاں ایران، غزہ، لبنان اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے ۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطے اور جلد ملاقات پر اتفاق کی تصدیق کی ہے ۔