ہرمز پر ہمارا کنٹرول،ایران کا ٹرمپ کو جواب،حوثیوں کا سعودی ریفائنری پر حملے کا دعویٰ
امریکا کی مکمل شکست تک پیچھا کرینگے :ابراہیم عزیزی،دوبارہ حملے پر زیادہ جارحانہ انداز اپنائیں گے :مشیر سپریم لیڈر جعلی انٹیلی جنس سے امریکا محتاط رہے :عراقچی، ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے آلودگی کا ازالہ کریں:ایران،تیل معمولی سستا
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل کے امکانات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران دونوں اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کا دعویٰ کر رہے ہیں۔جبکہ یمنی حوثیوں کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان میں آرامکو کی ریفائنری کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا ہے ۔ایران کی بسیج فورس کے نئے سربراہ حسین طائب نے ٹرمپ کے ہرمز پر کنٹرول کے دعوے کے جواب میں کہا آبنائے ہرمز ایران کی نگرانی اور کنٹرول میں ہے اور ملک مکمل امن و امان کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن ہے ۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایرانی فوجی یونٹس نے مقامی فورسز کی مدد سے مختلف سمتوں سے ہونے والے ایک منصوبہ بند زمینی حملے کو ناکام بنایا۔ حالیہ جنگ میں امریکا ایران کے خلاف اپناکوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اگر دوبارہ ایران کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ دنیا بھر میں امریکی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو اس وقت تک نہیں بخشا جائے گا جب تک اسے مکمل شکست نہیں ہو جاتی، ایران امریکا کا اس کی مکمل شکست تک پیچھا کرتا رہے گا۔ سپریم لیڈر کے سیاسی مشیربریگیڈیئر جنرل رسول سنائیراد نے کہا کہ ہم حالیہ جنگ میں ڈٹ کر کھڑے رہے اور مستقبل میں ممکنہ جنگ کی صورت میں مزید مضبوطی اور زیادہ جارحانہ انداز میں مقابلہ کریں گے ۔
انہوں نے امریکاکا نام لیے بغیر کہاکہ ایران کا دشمن معاشی دباؤ کے ذریعے ملک کے اندر تقسیم اور اختلافات پیدا کرنا چاہتا تھا ،تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوا۔ایران نے آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے تمام ممالک سے بحری آلودگی کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کردیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی سمندری آلودگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور قشم جزیرے کے ساحل کے قریب تیل کے اخراج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق اس آلودگی کا ممکنہ ذریعہ ایک غیر ملکی بلک کیریئر جہاز ہے ۔رپورٹس کے مطابق آلودگی ساحلی پٹی کے تین علاقوں اور سمندر کی سطح کے بعض حصوں تک پھیل چکی ہے ۔ایرانی ترجمان کے مطابق یہ واقعہ خطے میں ماحولیاتی نقصان کے ایک بڑے اور طویل المدتی سلسلے کا حصہ ہے ، جس نے سمندری ماحولیاتی نظام کو متاثر کیا ہے اور ایرانی ساحلی علاقوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔بقائی نے سوال اٹھایا کہ اس ماحولیاتی نقصان کے ازالے اور معاوضے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟ ،خطے سے سستی توانائی حاصل کرنے والے ممالک پر، بحری جہازوں کی انشورنس کمپنیوں پر یا خطے میں موجود غیر ملکی فوجی طاقتوں پر؟۔بقائی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازرانی سے فائدہ اٹھانے والے تمام ممالک پر خطے کے سمندری ماحول کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کیلئے قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ،انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہونے والے ماحولیاتی نقصان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور مستقبل کے کسی بھی انتظامی یا سکیورٹی فریم ورک میں اس معاملے کو حل کرنا ضروری ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپ کے اس بیان پر کہ ایران کے پاس پیسہ نہیں ہے ، ان کے پاس صرف جعلی خبریں اور 300 فیصد مہنگائی ہے ،کا جواب دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا جعلی خبروں سے بھی زیادہ بری جعلی انٹیلی جنس ہے ، امریکا محتاط رہے ، انہوں نے کہا امریکا طویل عرصے سے انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باعث غلط اندازے لگاتا رہا ہے ۔ اس کی ایک واضح مثال ایران کے خلاف جنگ ہے ۔ اب آبنائے ہرمز کے معاملے میں اندازوں کی اس سے بھی بڑی غلطی کی جا رہی ہے ۔ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت 30 سے زیادہ ممالک کی جانب سے ایران میں پھانسیوں کی مذمت کئے جانے پر انہوں نے کہا فرانس جیسے ممالک کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے بارے میں دنیا کو وعظ دینا بند کر دینا چاہیے ، غزہ جنگ میں اسرائیل کی حمایت اور ایران پر حملوں کی حمایت نے ہر اس اخلاقی برتری کو ختم کر دیا ہے جس کا آپ تصور کرتے ہیں کہ آپ کے پاس موجود ہے ۔یمن کے ایران نواز حوثی گروہ نے سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جارحیت روکنے ، ناکہ بندی ختم کرنے اور یمن میں تمام غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کا جرات مندانہ اور دانشمندانہ فیصلہ کرے ۔حوثی گروہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑے گی اور اس کے دونوں ممالک کیلئے مثبت نتائج برآمد ہوں گے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کیلئے زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ یمن میں اپنی فوجی مداخلت جاری رکھنے کے بجائے امن کی راہ اختیار کرے ۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی یمن میں مداخلت کے نتیجے میں پہلے ہی سعودی عرب نقصان اٹھا چکا ہے اور خبردار کیا کہ مستقبل میں ہونے والے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے ۔دریں اثنا یمنی حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ادارے سبا کے مطابق یمنی مسلح افواج نے جازان کے علاقے میں آرامکو ریفائنری کو دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا اور حملہ کامیاب رہا۔ رپورٹ میں ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ دونوں ڈرونز نے ریفائنری کو درست نشانہ بنایا۔ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر حملے یا کسی ممکنہ جانی و مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ آبی گزرگاہوں میں غیریقینی صورتحال برقرار رہنے کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے ۔برینٹ نارتھ سی خام تیل کی قیمت 0اعشاریہ 9 فیصد کمی کے ساتھ 88اعشاریہ 16 ڈالر فی بیرل ہوگئے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 0اعشاریہ 8 فیصد کمی کے ساتھ 82اعشاریہ 45 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments