امریکا سعودی جوہری معاہدو غیر مشروط، دستخط شدہ متن سامنے آگیا
معاہدہ کے متن میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط ہے نہ یورینیم افزودگی پر پابندی کا کوئی ذکر:برطانوی میڈیا معاہدے میں سعودیہ کو عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے اضافی پروٹوکول میں شامل ہونے کا پابند بھی نہیں کیا گیا
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جولائی میں طے پانے والے سول جوہری معاہدے کا مکمل اور دستخط شدہ متن سامنے آگیا ہے ، جس میں سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کی کوئی شرط موجود نہیں۔ معاہدے کے متن سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ریاض کو مخصوص شرائط اور مرحلہ وار طریقہ کار کے تحت یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ کرنے کا راستہ باضابطہ طور پر کھلا رکھا گیا ہے ۔بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق معاہدے کے اصل متن میں ابراہیمی معاہدوں کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ سعودی عرب پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوئی پابندی بھی عائد نہیں کی گئی۔ یہ نکات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات سے مطابقت نہیں رکھتے جن میں انہوں نے معاہدے کی منظوری کو سعودی عرب کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط قرار دیا تھا۔معاہدے کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدے کی منظوری سعودی عرب کے ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے سے مشروط ہوگی۔ امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ معاہدے کے تحت کسی بھی مواد کی افزودگی نہیں کی جائے گی اور پروگرام صرف غیر فوجی مقاصد تک محدود ہوگا۔
انہوں نے ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا سویلین جوہری تنصیبات کی مخالفت نہیں کرتا۔ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے کو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے جوڑے جانے پر سعودی عرب نے ان کے بیانات کی تردید کی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے معاہدے کا متن جاری نہ کیے جانے کے باعث اس وقت ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔ اب معاہدے پر دستخط کے تقریباً چھ ہفتے بعد، اور اسے امریکی کانگریس کو بھیجے جانے کے بعد، بی بی سی کو اس کا مکمل دستخط شدہ متن موصول ہوا ہے ۔دستاویز کے مطابق سعودی عرب کے لیے 20 فیصد تک یورینیم افزودگی کا امکان موجود ہے ، تاہم یہ اجازت مشروط اور مرحلہ وار ہے ۔ معاہدے کی شق 7 کے تحت منتقل یا تیار کیے جانے والے یورینیم کو فریقین کی تحریری رضامندی کے بعد افزودہ کیا جا سکے گا۔ اس مقصد کیلئے امریکا اور سعودی عرب مشترکہ طور پر افزودگی کے امکانات کا جائزہ لیں گے ۔شق کی دفعہ 5 کے مطابق اگر یورینیم کی افزودگی کیلئے امریکی آلات اور ٹیکنالوجی استعمال کی جائے تو ابتدائی حد 5 فیصد مقرر ہوگی، تاہم فریقین کی باہمی رضامندی سے سعودی عرب افزودگی کی شرح 20 فیصد تک بڑھا سکتا ہے ۔ایران کے معاملے میں 20 فیصد افزودگی پر طویل عرصے سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ کرنا جوہری ہتھیار کیلئے درکار افزودگی کی سطح تک پہنچنے کی سمت میں اہم پیش رفت سمجھی جاتی ہے اور اس کے بعد مزید افزودگی نسبتاً تیزی سے ممکن ہوسکتی ہے ۔معاہدے میں سعودی عرب کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے کے اضافی پروٹوکول میں شامل ہونے کا پابند بھی نہیں کیا گیا۔ اگرچہ ریاض معاہدے کے تحت متعین بعض معائنوں کو قبول کرنے کا پابند ہوگا، تاہم نگرانی کا دائرہ صرف ان ‘‘زیرِ احاطہ مقامات’’ تک محدود رہے گا جو براہ راست معاہدے سے متعلق ہوں یا امریکی جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کام کر رہے ہوں۔ماہرین کے مطابق اضافی پروٹوکول کسی ملک کے وسیع تر جوہری پروگرام، ممکنہ خفیہ تنصیبات اور ایسے مقامات تک بھی بین الاقوامی نگرانی کا دائرہ بڑھاتا ہے جو امریکی تعاون کے بغیر کام کر رہے ہوں۔ یہی پہلو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ماہرین کیلئے تشویش کا باعث ہے ۔امریکا اور متحدہ عرب امارات کے جوہری معاہدے سے تقابل بھی سعودی معاہدے میں دی گئی رعایتوں کو نمایاں کرتا ہے ۔
متحدہ عرب امارات نے اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی یا جوہری ری پراسیسنگ نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا، خواہ اس کیلئے امریکی یا غیر ملکی ٹیکنالوجی استعمال کی جائے ۔ امارات کیلئے اضافی پروٹوکول میں شمولیت بھی امریکی جوہری برآمدی اجازت نامے کے حصول کی پیشگی شرط تھی۔ سعودی عرب نے ایسی شرائط قبول نہیں کیں۔وائٹ ہاؤس نے امریکی کانگریس کو بھیجے گئے خط میں دو ‘‘خفیہ ضمنی خطوط’’ کا بھی ذکر کیا ہے ، تاہم ان کا متن تاحال منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ بی بی سی کے مطابق اگر ان خطوط میں متعلقہ معاملات پر کوئی اضافی نکات موجود بھی ہوں تو سعودی عرب کی منظوری اور دستخط کے بغیر وہ معاہدے کی عملی نوعیت پر اثر انداز نہیں ہوسکتے ۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے ٹرمپ کے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب تاریخی قدم ثابت ہوسکتا ہے ۔ نیتن یاہو کے دفتر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے خطے میں ‘‘امن کے دائرے ’’ کو وسعت دینے کا امکان پیدا کیا ہے ۔تاہم اسرائیل کے بعض سابق عہدیداروں اور جوہری ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ معاہدہ سعودی عرب کو مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت فراہم کرسکتا ہے ۔ اسرائیلی وزیر اقتصادیات نیر برکات نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب جوہری توانائی کو صرف پرامن اور توانائی کی ضروریات کیلئے استعمال کرے تو اسرائیل کو اعتراض نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق امریکا اسرائیل کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا اور نیتن یاہو و ٹرمپ ایسے معاملات میں خطرات کو سمجھے بغیر آگے نہیں بڑھتے ۔اس کے برعکس اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور وزیر خارجہ اویگدور لیبرمین نے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا سول جوہری پروگرام بالآخر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی طرف لے جا سکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments