سموٹریچ کاغزہ اور لبنانی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنیکا مطالبہ
غزہ میں یلو لائن ،لبنان میں دریائے لیتانی تک ، الحاق کیا جائے :اسرائیلی وزیر خزانہ اسرائیل میں 27اکتوبر کو ہونیوالے انتخابات پر پڑوسی و علاقائی ممالک گہری نظر اسرائیلی انتخابات کے نتائج سے فلسطینیوں کے حالات پر فرق نہیں پڑے گا:حماس
یروشلم،دبئی (اے ایف پی)اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے غزہ اور جنوبی لبنان کے ان علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو اس وقت اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ سموٹریچ نے کہا کہ غزہ میں ‘‘یلو لائن’’ اور لبنان میں دریائے لیتانی تک علاقوں کا الحاق کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جنگ شروع کرنے اور فلسطینی اتھارٹی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ سموٹریچ کی جماعت پورے مغربی کنارے کے الحاق کی حامی ہے ۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات پر پڑوسی اور علاقائی ممالک گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ نتائج کے اثرات اسرائیل سے باہر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ اردن کو مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی ممکنہ بے دخلی اور آبادکاری میں اضافے پر تشویش ہے ۔ مصر نے غزہ سے فلسطینیوں کی اپنی سرزمین منتقلی کی کوششوں کی مخالفت کی ہے ۔ خلیجی ممالک میں سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کیے بغیر اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے گریزاں ہے ، جبکہ متحدہ عرب امارات خطے میں کشیدگی اور اس کے معاشی و سکیورٹی اثرات سے متعلق تحفظات رکھتا ہے ۔ لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور حزب اللہ کے معاملے پر انتخابات کو اہم سمجھا جا رہا ہے ۔
شام بھی نئی اسرائیلی حکومت کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کا منتظر ہے ۔حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے قطر کے ٹی وی چینل ‘العربی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے بعد ملکی پالیسی میں کسی بنیادی تبدیلی کے امکان کو مسترد کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو تمام اسرائیلی جماعتوں سے نقصان پہنچا ہے ۔انھوں نے کہا کہ حماس اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ فلسطینیوں کے خون اور مصائب کو اسرائیل کی انتخابی مہمات کے لیے ایک آلہ بنایا جائے ۔متحدہ عرب امارات کی جانب سے 7 اکتوبر کے حملوں سے متعلق پیشگی اطلاع ملنے کے باوجود نیتن یاہو کی جانب سے کارروائی کیے جانے کی وجہ سامنے آگئی۔ اسرائیلی اخبار کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو نے اپنے سکیورٹی سربراہان کو آگاہ کیا تھا کہ وہ غزہ پر حملوں کی اجازت اس لیے دینا نہیں چاہتے کہ اس سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments