ایران کیساتھ جنگ نے امریکی گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کردی:ٹرمپ

ایران  کیساتھ  جنگ  نے  امریکی  گولہ  بارود  کے  ذخائر  میں  کمی  کردی:ٹرمپ

امریکا اسلحہ ذخیرہ کر رہا ، نئے اسلحہ کارخانے بھی بن رہے ، انتخابات کے بعد ایران سے دوبارہ جنگ ممکن:انٹر ویو تہران کیلئے عالمی پروازوں میں 42فیصد کمی،امریکا نے ایران کی بڑی گاڑی ساز کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کردیں

لندن،واشنگٹن،تہران(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)امریکی صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں بعض اقسام کے امریکی اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کچھ کم ہوئے ہیں، انہوں نے وعدہ کیا کہ ان ذخائر کو دوبارہ ایسے حجم تک پہنچایا جائے گا جو  اس سے پہلے کبھی نہیں رہا۔جمعرات کو شائع ہونیوالے ٹائم میگزین کو انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکا ایران پر حملوں میں دوبارہ اضافہ کرسکتا ہے ،امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی سے متعلق مختلف جائزوں میں تشویشناک صورتحال کے باوجود ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو انٹرویو میں اصرار کیا کہ امریکا بہترین حالت میں ہے اور بڑے پیمانے پر اسلحہ ذخیرہ کر رہا ہے ۔بعض اقسام کا گولہ بارود دوسری اقسام کے مقابلے میں کچھ کم ہے ۔ ہمارے پاس درمیانے درجے اور درمیانے سے اعلیٰ درجے کا ذخیرہ موجود ہے ، جو بہت طاقتور ہے ۔ امریکی اسلحہ ساز کمپنیاں ملک بھر میں پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل تیار کرنے کیلئے نئے کارخانے قائم کر رہی ہیں۔ نومبر کے انتخابات کے بعد ایران سے دوبارہ جنگ شروع ہونا ممکن ہے ۔انٹرویو میں ٹرمپ نے رائے عامہ کے جائزوں کو جعلی اعداد و شمار قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ ماہ اہم انتخابی حلقوں میں ریپبلکن امیدواروں کو کامیابی دلانے میں ذاتی طور پر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کسی امیدوار کی انتخابی مہم چلاؤں گا تو وہ امیدوار کامیاب ہوگا۔دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے عراق سے امریکی افواج کے انخلا کا خیرمقدم کرتے اسے تاریخی فتح قرار دیا ہے ۔

پاسداران انقلاب نے بیان میں مطالبہ کیا کہ کہ امریکی فوجی مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے بھی واپس جائیں۔ادھر ایرانی ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کے بعد تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں میں 42 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ۔ فلائٹ ریڈار24 کے اعدادوشمار کے مطابق 23 ستمبر سے روزانہ اوسطاً 53 بین الاقوامی پروازیں چل رہی ہیں جبکہ پابندی سے قبل یہ تعداد 91 تھی۔ جارجیا، عمان اور آذربائیجان کیلئے پروازیں مکمل بند ہوگئی ہیں جبکہ دبئی اور عراق کیلئے فضائی سروس بھی شدید متاثر ہوئی۔ چین کیلئے روزانہ اوسطاً 8 پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں جبکہ تہران اور ترکیہ کے درمیان پروازوں میں 19 فیصد کمی ہوئی۔ پابندی کے باوجود آرمینیا، روس، افغانستان، پاکستان، تھائی لینڈ، تاجکستان، ویتنام، ملائیشیا اور قطر کیلئے فضائی رابطے برقرار ہیں۔ امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ملک کی بڑی گاڑی ساز کمپنیوں، ریلوے ، صنعتی اور دھات سازی کے شعبوں سے وابستہ متعدد اداروں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکا نے ایران کیلئے ے ہتھیاروں کی خریداری سے منسلک 13 افراد اور اداروں پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں۔ایران کے شہر زاہدان میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا، ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق کارروائی میں 6 دہشتگرد مارے گئے ۔اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد طے شدہ شیڈول کے مطابق سوموار کونیویارک سے روانہ ہوا تھا۔ایرانی مشن کا یہ بیان امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی اس خبر کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی وفد بشمول وزیرِ خارجہ عراقچی کو فوری طور پر امریکی سرزمین چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...