ایران امریکا ثالثی میں کردار ادا کررہے، سٹیک ہولڈرز کیساتھ مسلسل رابطہ : دفتر خارجہ

ایران امریکا ثالثی میں کردار ادا کررہے، سٹیک ہولڈرز کیساتھ مسلسل رابطہ : دفتر خارجہ

پاکستان ذمہ دارملک ،عالمی اورملکی قوانین کے مطابق ایران پرامریکی پابندیوں کی پاسداری کرتاہے اورکرتا رہے گا افغانستان پر ائیر سٹرائیکس کے بعد دونوں ممالک رابطے میں ہیں،شہریوں کی سلامتی حکومت کی ذمہ داری :ترجمان

اسلام آباد(دنیا نیوز)ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ ثالثی میں پاکستان کردار ادا کررہا ہے ، پاکستان کا امریکی لیڈر شپ سے اس ہفتے کے دوران آخری رابطہ ہوچکا ہے ،افغانستان پر ائیر سٹرائیکس کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی رابطے سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک مختلف سطح پر رابطے میں ہیں، دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔ترجمان نے ہفتہ واربریفنگ دیتے ہوئے کہا ایران پر امریکہ پابندیوں سے متعلق ان سے منسوب ریمارکس سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے ، ان پرانے ریمارکس کی وضاحت ضروری ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان عالمی برادری کا ذمہ دار رکن ہے ، تمام قابلِ اطلاق پابندیوں کے نظام کی پاسداری کرتا ہے، پاکستان بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق پابندیوں کی پاسداری کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہاپاکستان کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام سے وابستگی کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل اور تعمیری رابطے میں ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا پاکستان امریکہ کے ساتھ دیرینہ اور کثیرالجہتی اسٹریٹجک شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ،واشنگٹن کے ساتھ طویل عرصے سے قائم سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے شہر اجین، مدھیہ پردیش میں تاریخی شاہی مسجد کے بعض حصوں کو منہدم کرنے کی مبینہ کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا عالمی برادری بھارت میں مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کو درپیش صورتحال کا نوٹس لے۔

پاک افغان صورتحال سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا پاکستان افغانستان سے متعلق صورتحال پر گہری تشویش رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے تحفظات بارہا بیان کر چکا ہے ۔ ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے ، تاہم پاکستانی شہریوں کی سلامتی اور ملک کے دفاع کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے صومالیہ کے ساحل پر بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران پاکستانی عملے کے تین ارکان سمیت پانچ افراد کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستانی حکام صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ زخمیوں کو طبی سہولیات، میتوں کی وطن واپسی اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جا سکے ۔ میتوں کو ایتھوپیا کے راستے پاکستان منتقل کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...