وفاقی حکومت، پیپلزپارٹی کے آج پی ٹی آئی سے مذاکرات : مشترکہ کمیٹی قائم، محسن نقوی، رانا ثنااللہ، امیر مقام، شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ایوان صدر میں اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری

وفاقی حکومت، پیپلزپارٹی کے آج پی ٹی آئی سے مذاکرات : مشترکہ کمیٹی قائم، محسن نقوی، رانا ثنااللہ، امیر مقام، شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ایوان صدر میں اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری

صدر سے وزیراعظم کی ملاقات، پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر اظہارتشویش، مذاکرات سپیکر دفتر میں ہونگے، شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،گورنر راج ،ایمرجنسی نفاذ بارے وزیر قانون کی بریفنگ اپوزیشن اتحاد کا بھی اجلاس ،گولی کے ذریعے امن نہیں آسکتا:راجہ ناصر ، اگر گورنر راج لگایا تو آپ وفاق کو مشکلات میں ڈالیں گے :بیرسٹر گوہر ، ملاقات کیلئے وزیراعظم آفس نہیں جاؤں گا:محمود اچکزئی

اسلام آباد،پشاور(دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں گزشتہ روز ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، طے پایا کہ وفاقی حکومت اور پاکستان  پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد آج جمعہ کو پی ٹی آئی کے وفد سے ملاقات اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، مشیر وزیراعظم سینیٹر رانا ثنا اللہ، اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور عثمان اعوان، سینیٹر شیری رحمن، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور سید ناصر حسین شاہ بھی موجود تھے ۔ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

صدر زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ملکی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بنانے اور ملک کے امن و استحکام کیلئے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مو ثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں طے کیا گیا کہ وفاقی حکومت اور پی پی پی کا مشترکہ وفد آج بروز جمعہ پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کرے گا اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا، مشترکہ حکومتی وفد میں محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، امیر مقام اور پیپلزپارٹی کی طرف سے شیری رحمن، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شریک ہونگے ۔ اوھر وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی رہنما عامرڈوگر سے ٹیلیفون پرگفتگو کی ہے ۔ ذرائع کے مطابق رانا ثنااللہ نے عامرڈوگرکو فون کیا اور کہا کہ معاملات کو سیاسی طور پر حل کیا جائے ۔بعدازاں عامرڈوگر نے اپوزیشن رہنماؤں کو وزیراعظم ہاؤس کی ملاقات اور رانا ثنااللہ کے رابطے سے آگاہ کیا۔

قبل ازیں پاکستان تحریکِ انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے معاملے پر شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال اور ممکنہ حل پر غور کیا گیا۔اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر کشمیر امور امیر مقام، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اطلاعت عطا تارڑ شریک ہوئے ۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے پختونخوا میں دہشت گردی اور سکیورٹی کی صورت حال پر بریفنگ دی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گورنر راج، قومی حکومت اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قانونی اور آئینی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ وزیراعظم کو افغان بارڈر پر سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ رانا ثنا اللہ اور امیر مقام نے سیاسی صورتحال اور روابط کے متعلق بتایا، وزیراعظم کو تحریک انصاف سے بیک ڈور روابط سے بھی آگاہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ پختونخوا حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام میں ناکام ہو چکی ، وزیراعظم نے سکیورٹی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا تاہم خیبر پختونخوا سے متعلق حتمی فیصلے سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے اوروفاقی حکومت نے پختونخوا حکومت کے طرزعمل پر سخت ردعمل دینے اور محاذ آرائی کی صورت میں آئینی و قانونی آپشن فوری استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کو پیغام دیا گیا ہے کہ طرزعمل تبدیل کرے یا نتائج کیلئے تیار رہے ، صوبے کے انتظامی اور سیاسی مستقبل سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار صدرِ مملکت اور وزیراعظم کو دے دیا گیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں امن و امان کا قیام اور سرحدوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے ، پختونخوا کے عوام کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جاسکتا، صوبے میں امن و امان کے قیام کیلئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر امن و امان کی صورتحال پر مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ 

اسلام آباد،پشاور(دنیا نیوز،این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک )اپوزیشن اتحاد نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے بات چیت کیلئے رضامندی ظاہر کردی، (آج)جمعہ کو اپوزیشن اور حکومتی وفود کے درمیان ملاقات سپیکر کے دفتر میں ہوگی ۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو اپوزیشن اتحاد کا اہم مشاورتی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ، علامہ راجہ ناصر عباس کے چیمبر میں منعقد ہوا جس میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، مصطفی نواز کھوکھر، اسد قیصر، عامر ڈوگر ودیگر رہنما شریک ہوئے ۔اجلاس میں پی ٹی آئی کے 4اکتوبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی جبکہ حکومتی اقدامات اور اپوزیشن کے جوابی اقدامات کے حوالے سے بات کی گئی۔اجلاس میں حکومت کی مذاکرات کی پیشکش پر اہم گفتگو ہوئی، اپوزیشن اتحاد نے حکومت کے ساتھ مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ناصر عباس نے کہا کہ جمہوری حکومت کبھی بھی فاشسٹ نہیں ہوسکتی وہ عوام سے محبت سے بات کرے گی مگر پاکستان کے ساتھ انہونی ہو رہی ہے ، ایک شخص جو پاکستان کا وزیراعظم رہا ہے اسے جیل میں بند رکھا گیا ہے، پاکستان کے بڑے مسائل ہیں ، گولی کے ذریعے امن نہیں آسکتا، ہم سیاسی رویہ اپنائیں گے ، لانگ مارچ کریں گے، پر امن مارچ کو ہم سپورٹ کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو بحران سے نکالنے والا ایک ہی شخص ہے جو عمران خان ہے، عمران سندھ، کے پی، پنجاب، بلوچستان سب کو راضی کرلیں گے ،ہمارا پرامن احتجاج ہو گا، اس کو غلط رنگ دیا جارہا ہے، جو ہمیں مارنے آئے گا ہم اسے بھی پھولوں کا ہار ڈالیں گے مگر ہمیں بزدل ہونے کے طعنے نہ دو، بزدل وہ ہے جس کی عوام میں جڑیں نہیں جو ڈاکا ڈال کر آتے ہیں ،ہم بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ بات چیت بغیر کسی شرط کے ہوگی، کسی شرط کی تلوار لٹکا کر ایسے مذاکرت نہیں ہو سکتے، مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے حکومت کو پیغام دیا کہ اگر گورنر راج لگایا تو آپ وفاق کو مشکلات میں ڈالیں گے ،حکومت سے مذاکرات کیلئے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں ، سب سے پہلے پاکستان ہے اور ہم سب پرامن رہیں گے ،حکومت کی جانب سے ملاقات کا پیغام موصول ہوا جسے اپوزیشن اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں قبول کر لیا ، حکومتی اور اپوزیشن وفود کی آج دن 12 بجے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے دفترمیں ملاقات ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اجلاس میں بانی کی بہنوں ،ایم این ایز اور ایم پی ایز کی گرفتاریوں کی مذمت کی ، ہم ریاست اور پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے مگر آپ آواز دباتے رہے ہمیں نہیں سنا،آپ نے کہا ہم ٹولہ اورانتشاری ہیں، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ، اگر عوام کی مرضی کے خلاف کچھ کرتے ہیں تو وفاق کمزور ہوگا، یہ ہمارا ملک ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے مشیران کے آگے اپنے تمام تحفظات رکھے ، سپریم کورٹ کے پاس ہم گئے ، جہاں ہم جاتے ہیں ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے ، ہم اب بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جو خط موصول ہوا تھا اس کا جواب دیں گے ، ملاقات کیلئے وزیراعظم آفس یا وزیراعظم ہاؤس نہیں جاؤں گا، کسی درخت کے نیچے بیٹھ جاؤں گا پر ملاقات کے لیے وزیراعظم آفس نہیں جاؤں گا،ملاقات کے لیے وزیراعظم کسی اور جگہ آجائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...