پاکستان طاقتور معیشت بن کر ابھرے گا، سیاسی و عسکری قیادت کا تعاون اہم : شہباز شریف
آئی ایم ایف حکام بھی پاکستان کی معاشی پیشرفت کا اعتراف کررہے :سٹاک ایکسچینج سے خطاب،معاشی آؤٹ لک رپورٹ کا خیر مقدم
اسلام آباد (نامہ نگار،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی استحکام کو ٹیم ورک اور مسلسل محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی معیشت اب صنعت کاری اور برآمدات میں اضافہ پر مبنی پائیدار ترقی اور روزگار پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی متقاضی ہے ، معاشی حالات کی بہتری میں سیاسی اور عسکری قیادت کا باہمی تعاون نہایت اہم ہے ،حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ طویل عرصے سے زیر التوا اصلاحات کو عملی جامہ پہنایا، معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ، پاکستان ان شاء اللہ دنیا کے نقشے پر ایک طاقتور معیشت بن کر ابھرے گا، آئی ایم ایف حکام بھی پاکستان کی معاشی پیشرفت کا اعتراف کررہے ہیں۔انہوں نے یہ بات نیا ناظم آباد اپارٹمنٹس کی لسٹنگ کے موقع پر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منعقدہ گونگ تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں کیک بھی کاٹا گیا۔
شہباز شریف نے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان کو اب اپنی معیشت میں ترقی، بالخصوص برآمدات پر مبنی گروتھ دکھانا ہوگی، جس کے نتیجے میں روزگار، پیداواری سرگرمیوں، اشیا و خدمات کی ترسیل اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا نیویارک میں منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف نے ملاقات کے دوران کہاکہ ‘‘پرائم منسٹر، یہ نیا پاکستان ہے ’’ جس پر میں نے جواب دیا کہ یہ نیا پاکستان نہیں بلکہ ایک نئی ٹیم ہے جس نے مل کر پاکستان کے معاشی حالات کو سدھارا ہے ۔وزیراعظم نے تعمیراتی صنعت کا ذکر کرتے ہوئے عارف حبیب کو نئے ناظم آباد کو "ریٹ" کے اسٹرکچر میں لانچ کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ لاہور اور کراچی میں اسی سٹرکچر کے اندر رہتے ہوئے تعمیر کیے گئے پروجیکٹس انتہائی قابل تعریف ہیں تاہم خطے کے ممالک کی سٹاک ایکسچینجز کو سامنے رکھتے ہوئے کیپٹل مارکیٹ میں جو تبدیلیاں لانی چاہئیں ان کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں،ترقی جدید مشینری، پیداواری صلاحیت اور محنت سے ہی ممکن ہے۔
شہباز شریف نے چیئرمین نیب کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے کی زمینیں نہ صرف ریکور بلکہ ڈسکور کی ہیں۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ میں ملکی معیشت کے اہم اشاریوں میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ملکی معیشت پر اعتماد کا مظہر ہے ، جولائی اور اگست میں ترسیلات زر 6اعشاریہ3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 7اعشاریہ3 ارب ڈالر ہوگئیں، اگست میں ترسیلات زر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 16اعشاریہ 5 فیصد اضافہ خوش آئند ہے۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان آسان خدمت سنٹر کی کارکردگی، توسیع اور ملک کے مختلف علاقوں میں نئے آسان خدمت مراکز کے قیام سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو سرکاری خدمات کے حصول کیلئے دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نے مرکز کی تیسرے فریق سے کرائی گئی کارکردگی کی آڈٹ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ علاو ہ ازیں وزیراعظم نے پرائم منسٹر فیول ریلیف سکیم کی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا 15 ستمبر سے اب تک کے مختصر دورانیے میں 75 لاکھ سے زائد شہریوں کا ریلیف سکیم سے مستفید ہونا باعث اطمینان ہے ، فیول سبسڈی اسکیم کے ذریعے تیار ہونے والا مستحکم ڈیٹا بیس مستقبل میں بھی شہریوں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔15 ستمبر سے آغاز کے بعد یہ سکیم اب تیسرے ہفتے میں داخل ہورہی ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے ہم منصب انور ابراہیم سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے ان کے بڑے بھائی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیاہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments