امریکا:مہلک انجکشن کی دو خوراکیں بھی قتل کی مجرمہ کرسٹا پائیک کی جان نہ لے سکیں

امریکا:مہلک انجکشن کی  دو خوراکیں بھی قتل کی مجرمہ  کرسٹا پائیک کی جان نہ لے سکیں

واشنگٹن(اے ایف پی)امریکی ریاست ٹینیسی میں قتل کی مجرمہ کرسٹا پائیک مہلک انجکشن کی دو خوراکیں دئیے جانے کے باوجود زندہ رہی، جس کے بعد اسے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

 اگر سزائے موت پر عملدر آمد ہو جاتا تو 50 سالہ پائیک200 سال میں ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون بن جاتی، تاہم سزائے موت پر عملدرآمد ناکام ہوگیا۔ ریاستی محکمہ اصلاحات کے مطابق عملدرآمد کیلئے مقررہ قانونی طریقہ کار پر مکمل عمل کیا گیا ۔گورنر بل لی نے واقعے کی جامع آزادانہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال مقرر دیگر سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوگا۔ ٹینیسی میں چند ماہ کے دوران یہ سزائے موت پر عملدرآمد کی دوسری ناکام کوشش ہے ۔واضح رہے پائیک 18 سال کی تھیں جب انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر 19 سالہ کولین سلیمر کو نوجوانوں کے ایک تربیتی کیمپ میں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...