مدینہ میں کروز میزائل تباہ:حوثیوں کی تردید،ریاض میں سربراہی اجلاس ملتوی:یمنی صدارتی محل پر حملہ ،4جاں بحق

مدینہ  میں  کروز  میزائل  تباہ:حوثیوں  کی  تردید،ریاض  میں  سربراہی  اجلاس  ملتوی:یمنی  صدارتی  محل  پر  حملہ ،4جاں  بحق

اکتوبر میں ریاض ایئر پورٹ پر 20 بار حملے کئے گئے ،ایران حوثیوں کو اسلحہ ،فوجی تربیت فراہم کرکے مملکت پر حملوں کی حوصلہ افزائی کر رہا:سعودی عرب کا الزام حکومتی پابندیاں، حملوں کی ویڈیوز بنانے اور شیئر کرنے پر سعودی شہریوں کی غیر معمولی احتیاط ، حوثیوں نے عمان میں ملاقات سے انکار کر دیا:سعودی عہدیدار

ریاض،صنعا (نیوز ایجنسیاں )یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت کے فوجی اتحاد نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مدینہ کے علاقے میں ایک کروز میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم حوثیوں نے فوری ردعمل میں کہا کہ انہوں نے جمعرات کو سعودی عرب کے اس علاقے کو نشانہ نہیں بنایا۔ گروپ اس سے قبل بھی مکہ اور مدینہ کو حملوں سے مستثنیٰ رکھنے کا اعلان کر چکا ہے ۔ حوثیوں کے سعودی عرب پر مسلسل حملوں کے باعث یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کا ریاض میں ہونے والا سربراہی اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے ۔ یورپی کونسل نے جمعرات کو اعلان کیا کہ 24 اکتوبر 2026 کو طے شدہ اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ حوثیوں نے اکتوبر کے دوران ریاض کے ہوائی اڈے پر 20 بار حملے کیے ۔ اتحاد کے مطابق یمنی گروپ نے سعودی عرب کے نقل و حمل کے مراکز اور تیل کی تنصیبات پر حملوں میں بھی تیزی پیدا کر دی ہے ۔

مزید براں یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر عدن میں صدارتی محل پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں سکیورٹی اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے ۔ حکام کے مطابق حملے میں پانچ بیلسٹک میزائل داغے گئے ، تاہم وزیراعظم شائع زندانی اور دیگر وزرا محفوظ رہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ۔ دوسری جانب حکومتی پابندیوں کے سبب سعودی عرب میں شہری میزائل اور ڈرون حملوں کی ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر غیر معمولی احتیاط برت رہے ہیں۔ ریاض میں فضائی حملے کی وارننگ کے بعد دھماکوں اور فضائی دفاعی میزائلوں کو آسمان پر دیکھنے کے باوجود بیشتر افراد نے اپنے موبائل فون نکال کر مناظر ریکارڈ نہیں کیے ۔ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر 10 روز سے زیادہ عرصے سے تقریباً روزانہ میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔ اے ایف پی کے ایک صحافی نے رواں ہفتے وسطی ریاض میں دیکھا کہ فضائی دفاعی میزائلوں کے سر کے اوپر سے گزرنے پر غیر ملکی مزدور چیخنے لگے اور آسمان کی طرف اشارے کرنے لگے ، جبکہ قریب موجود بیشتر سعودی شہری خاموش اور پرسکون دکھائی دئیے ۔امریکا نے رواں ہفتے بتایا کہ سعودی عرب میں امریکی شہریوں کو حملوں سے متعلق واقعات کی تصاویر بنانے پر حراست میں لیا گیا ہے ۔ تاہم واشنگٹن نے نہ تو زیر حراست افراد کی تعداد بتائی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا وہ اب بھی حراست میں ہیں۔اتوار کی شام دارالحکومت کی جدید میٹرو میں موبائل فونز پر حملے کی وارننگ کے پیغامات بیک وقت بجنے لگے تو بعض مسافروں میں واضح بے چینی دیکھی گئی، تاہم کشیدگی کے باوجود کسی نے دوسرے مسافروں سے حملوں کے بارے میں بات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ جی ہاں ہم احتیاط کر رہے ہیں۔

اس کے بقول روزمرہ زندگی متاثر ہونے کے باعث لوگ واقعات پر بات تو کرتے ہیں لیکن دھیمی آواز میں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ موجودہ حالات میں ان معاملات پر گفتگو بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے ۔سعودی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ مملکت کے ساتھ جاری لڑائی میں حالیہ شدت کے دوران حوثیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے ۔ عہدیدار کے مطابق ایران اس گروپ کو بدستور اسلحہ فراہم کرنے اور فوجی تربیت دینے میں مصروف ہے ۔وزارت خارجہ میں عوامی سفارت کاری کے نائب وزیر ڈاکٹر رائد کریملی نے صحافیوں کو آن لائن بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کو اسلحہ، تربیت اور معاونت فراہم کر رہا ہے ۔ تنازع کے موجودہ مرحلے میں حوثیوں کی جانب سے کشیدگی میں اضافہ ایران کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے ۔سعودی عہدیدار نے کہا کہ اس کے باوجود مملکت کے ایران کے ساتھ رابطے برقرار ہیں، اگرچہ ابھی تک ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ ایرانی تنازع کے حل کیلئے ضروری رعایتیں دینے کی پوزیشن میں ہیں۔عہدیدار نے حوثیوں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ حالیہ ہفتوں میں دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے باوجود انہوں نے عمان میں ملاقات سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہاکشیدگی میں اضافے کے آغاز پر ہم نے انہیں عمان کے دارالحکومت مسقط میں ملاقات کی دعوت دی تھی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...