یمن میں حوثی جنگ سے قدیم ورثہ خطرے میں،نوادرات کی لوٹ مار اور سمگلنگ
صنعا (نیوز ایجنسیاں)یمن میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری جنگ اور حوثی ملیشیا کی نئی عسکری کارروائیوں کے باعث ملک کا تاریخی و ثقافتی ورثہ شدید خطرات سے دوچار ہے ، جبکہ قدیم نوادرات کی لوٹ مار اور بیرونِ ملک سمگلنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یمنی حکام کے مطابق، 2014 میں درج 2ہزار300 سے زائد تاریخی مقامات میں سے تقریباً 477 مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ ملک کے 22 عجائب گھروں میں سے 12 کو لوٹ مار یا تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ نے سرکاری اداروں کو کمزور کر دیا ہے ، جس سے قدیم قبروں، آثارِ قدیمہ کے مقامات اور عجائب گھروں سے تاریخی اشیا چوری کرکے بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت کرنا آسان ہو گیا ہے ۔ اندازوں کے مطابق، یمن سے تعلق رکھنے والی 10 ہزار سے 14 ہزار قدیم اشیا بیرونِ ملک موجود ہیں، جبکہ حکام نے 8 ہزار سمگل شدہ نوادرات کی فہرست مرتب کی ہے ۔امریکا میں یمن کی 77 قدیم اشیا بھی برآمد کی گئیں، جنہیں یمنی حکومت کے حوالے کرنے کے باوجود محفوظ رکھنے کے لیے ایک میوزیم میں رکھا گیا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments