امریکا کی ایران پر دوبارہ حملے کی تیاریاں شروع
فوجیوں کی تعیناتی ، امریکی شہریوں کیلئے ہدایات،اسرائیلی فوج کو الرٹ کے اشارے اس ہفتے کے اختتام پر ایران پر حملے کا امکان یقینی طور پر موجود ہے :امریکی سفیر
واشنگٹن (اے ایف پی)امریکا کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی تیاریاں دکھائی دے رہی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ تباہ کن جنگ کا فوجی حل نکلنے کا امکان نہیں۔امریکی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے شعبئہ خارجہ پالیسی کی سربراہ سوزین مالونی نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران پر حملوں کا امکان ہے ۔ امریکا میں یہ انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے ۔انہوں نے اس امکان کے حق میں کئی اشاروں کی نشاندہی کی، جن میں مشرقِ وسطیٰ میں مزید امریکی فوجی وسائل اور اہلکاروں کی تعیناتی، خطے میں موجود امریکی شہریوں کے لیے جاری کی گئی انتباہی ہدایات اور اسرائیلی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھنا شامل ہیں۔مالونی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عوامی سطح پر کہا تھا کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے ۔ ان کے بقول انتخابات سے پہلے ایسا حملہ ٹرمپ کے لیے انتخابی نتائج کے اعتبار سے فائدہ مند دکھائی نہیں دیتا۔
فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ امریکا میں خاصی غیر مقبول ہے ، بالخصوص اس لیے کہ اس کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ یہ صورتِ حال اہم انتخابات میں ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس بحران کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا ہوگا، خواہ وہ سفارت کاری کے ذریعے ہو یا فوجی کارروائی کے ذریعے ۔ادھر ترکیے میں امریکی سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی ایلچی ٹام بارک نے جمعے کو کہا کہ اس ہفتے کے اختتام پر ایران پر حملے کا امکان یقینی طور پر موجود ہے ۔ یہ بیان منگل کو اسرائیل میں ہونے والے انتخابات سے پہلے سامنے آیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments